کراچی: آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، او جی ڈی سی ایل، نے سندھ کے ضلع خیرپور میں ایک نئے ایکسپلوریٹری کنویں سے گیس اور کنڈینسیٹ کی پیداوار شروع کردی ہے۔ کمپنی نے اس پیش رفت کو مقامی ہائیڈروکاربن پیداوار میں اضافے اور ملکی توانائی ضروریات کے لیے نئی سپلائی شامل کرنے کی کوشش کا حصہ قرار دیا ہے۔

پاکستان اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی قدرتی گیس اور تیل کے ساتھ درآمدی ایندھن پر بھی انحصار کرتا ہے۔ موجودہ گیس فیلڈز کی قدرتی پیداوار میں وقت کے ساتھ کمی کے باعث نئی دریافتوں کو جلد پیداواری نظام میں لانا اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایکسپلوریٹری کنویں سے تجارتی پیداوار شروع ہونے کا مطلب ہے کہ دریافت کے بعد ضروری ٹیسٹنگ، تکمیل اور متعلقہ انفراسٹرکچر کے مراحل سے گزر کر ہائیڈروکاربن کو نظام میں شامل کیا گیا ہے۔

کنڈینسیٹ ہلکا مائع ہائیڈروکاربن ہوتا ہے جو بعض قدرتی گیس ذخائر کے ساتھ حاصل ہوتا ہے اور ریفائننگ یا دیگر توانائی استعمال میں کام آسکتا ہے۔ گیس اور کنڈینسیٹ کی مشترکہ پیداوار کسی دریافت کی معاشی قدر میں اضافہ کرسکتی ہے، تاہم مجموعی اثر روزانہ پیداواری حجم، ذخیرے کی پائیداری اور موجودہ قومی طلب کے مقابل اس کے پیمانے پر منحصر ہوتا ہے۔

او جی ڈی سی ایل پاکستان کی بڑی سرکاری ایکسپلوریشن و پروڈکشن کمپنیوں میں شامل ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کرتی ہے۔ سندھ پہلے ہی قومی گیس پیداوار میں اہم حصہ رکھتا ہے، اور خیرپور میں نئی پیداوار صوبے کے موجودہ توانائی اثاثوں میں ایک مزید ذریعہ شامل کرتی ہے۔

نئے کنویں سے پیداوار شروع ہونا مثبت پیش رفت ہے، لیکن پاکستان کی مجموعی توانائی درآمدات یا گیس قلت پر اس کے اثرات کو اس کے حقیقی پیداواری اعداد و شمار کے تناسب سے دیکھنا ضروری ہے۔ توانائی میں زیادہ خودکفالت کے لیے مسلسل نئی دریافتیں، موجودہ فیلڈز کی بہتر بازیافت، ترسیلی نظام میں بہتری اور طلب کے مؤثر انتظام کی ضرورت رہے گی۔ اس کنویں کی مستقبل کی پیداوار اور ذخیرے کی کارکردگی اس کی طویل مدتی اہمیت کا تعین کرے گی۔