نیویارک: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی فوجی کشیدگی اور تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ خام تیل کے سودے جمعہ کو 116.72 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جو تقریباً چھ ماہ کی بلند ترین اختتامی سطح ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 103 ڈالر فی بیرل سے اوپر بند ہوا۔
مارکیٹ میں تازہ تیزی کی بڑی وجہ سعودی عرب میں حوثی حملوں اور خطے میں امریکا-ایران جنگ کے باعث توانائی کے انفراسٹرکچر اور سمندری راستوں کو لاحق خطرات بتائے گئے۔ تاجروں کو خدشہ ہے کہ اگر خلیج، بحیرہ احمر یا اہم برآمدی تنصیبات میں خلل بڑھا تو عالمی منڈی میں خام تیل کی دستیابی متاثر ہوسکتی ہے۔
برینٹ کے نرخ ایک ہی سیشن میں 3 فیصد سے زیادہ بڑھے اور ہفتہ وار بنیاد پر بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی WTI کی قیمت بھی تیزی سے اوپر گئی۔ تیل کی منڈی پہلے ہی جنگ، جہاز رانی کے بڑھتے اخراجات، انشورنس پریمیم اور بعض علاقائی رسدی رکاوٹوں کے باعث حساس ہے، اس لیے نئی سکیورٹی اطلاعات قیمتوں میں فوری اتار چڑھاؤ پیدا کر رہی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک ٹینکر سے تیل کے اخراج کی اطلاع نے بھی علاقائی توانائی خطرات پر توجہ بڑھائی، اگرچہ اس واقعے کے عالمی رسد پر براہ راست اثر کی مکمل مقدار فوری طور پر واضح نہیں تھی۔ اسی دوران سعودی عرب میں مختلف مقامات پر حملوں کے دعووں نے منڈی میں یہ خدشہ بڑھایا کہ تنازع اہم تیل پیدا کرنے والے اور برآمدی ممالک کے قریب پھیل سکتا ہے۔
تیل کی بلند عالمی قیمتیں پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ خام تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل، زرمبادلہ کی ضرورت، ٹرانسپورٹ لاگت اور مقامی ایندھن قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، اگرچہ ملکی صارف قیمتوں کا حتمی اثر حکومتی ٹیکس، لیوی، ایکسچینج ریٹ اور قیمت مقرر کرنے کے طریقہ کار پر بھی منحصر ہوتا ہے۔
عالمی منڈی کی سمت اب مشرق وسطیٰ میں فوجی پیش رفت، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی جہاز رانی، امریکی پالیسی اور بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی رسد سے متعلق فیصلوں پر منحصر رہے گی۔ موجودہ قیمت ایک تیز رفتار اور غیر یقینی مارکیٹ کی عکاسی کرتی ہے، اس لیے آئندہ سیشنز میں نمایاں اتار چڑھاؤ ممکن ہے۔

