اسلام آباد: پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی کی رفتار ایک بار پھر بڑھی ہے اور 22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمت اشاریہ (SPI) سالانہ بنیاد پر 11.85 فیصد تک پہنچ گیا۔ پاکستان بیورو شماریات کے جاری کردہ اعداد کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر بھی اشاریہ 0.65 فیصد بڑھا۔ تازہ اضافے میں گندم کے آٹے کی قیمت نمایاں عامل رہی، جبکہ توانائی اور دیگر ضروری اشیا کی بلند قیمتیں بھی گھرانوں کے اخراجات پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

حساس قیمت اشاریہ روزمرہ استعمال کی منتخب بنیادی اشیا کی قیمتوں میں مختصر مدت کی تبدیلی ناپتا ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق زیر جائزہ ہفتے میں 19 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 12 اشیا سستی ہوئیں جبکہ باقی اشیا کی قیمتیں بڑی حد تک مستحکم رہیں۔ یہ اشاریہ عمومی صارف قیمت اشاریے سے مختلف ہے، اس لیے 11.85 فیصد کو مجموعی سالانہ CPI مہنگائی کی شرح سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

حالیہ ہفتوں میں قلیل مدتی مہنگائی مسلسل دو ہندسوں میں رہی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے براہ راست ٹرانسپورٹ اور ایندھن کے اخراجات بڑھائے ہیں، جبکہ بالواسطہ طور پر خوراک اور دوسری اشیا کی نقل و حمل اور پیداواری لاگت بھی متاثر ہوتی ہے۔ آٹے کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے گھرانوں پر زیادہ اثر ڈالتا ہے کیونکہ خوراک ان کے مجموعی بجٹ کا بڑا حصہ ہوتی ہے۔

حکومت حالیہ عرصے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا زیادہ کثرت سے جائزہ لے رہی ہے، جبکہ پیٹرولیم لیوی بھی سرکاری محصولات کا اہم ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ بلند توانائی قیمتیں کاروباری لاگت اور صارف قیمتوں دونوں میں منتقل ہوسکتی ہیں۔ اسی لیے ہفتہ وار مہنگائی میں خوراک اور ایندھن کی حرکت کو آئندہ ماہانہ مہنگائی کے رجحان کے ابتدائی اشارے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے، اگرچہ دونوں اشاریوں کی ساخت مختلف ہے۔

گندم اور آٹے کی قیمتوں کا دباؤ زرعی پالیسی سے بھی جڑا ہے۔ حکومت نے آئندہ فصل کے لیے گندم کی اشاری قیمت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسانوں کو بڑھتی پیداواری لاگت کے مقابلے میں بہتر ترغیب مل سکے۔ تاہم کسان کو مناسب قیمت دینے، ملکی پیداوار بڑھانے اور صارفین کے لیے آٹا قابل برداشت رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا پالیسی سازوں کے لیے بنیادی چیلنج ہے۔

تازہ SPI اعداد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ میکرو اکنامک استحکام کے باوجود ضروری اشیا کی قیمتوں کا دباؤ ختم نہیں ہوا۔ آنے والے ہفتوں میں آٹے، پیٹرولیم مصنوعات، سبزیوں اور دیگر خوراک کی قیمتوں کی سمت اس بات کا تعین کرے گی کہ قلیل مدتی مہنگائی میں موجودہ تیزی برقرار رہتی ہے یا اس میں کمی آتی ہے۔