سرکاری آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے مالی سال 2025-26 کے لیے 242.374 ارب روپے کا ریکارڈ بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا ہے۔ ڈان میں 4 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والے کمپنی کے مالی نتائج کے مطابق یہ منافع گزشتہ مالی سال کے تقریباً 169 ارب روپے کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سالانہ نتائج کی منظوری دی، جن میں خالص فروخت آمدن 449.191 ارب روپے ریکارڈ ہوئی۔ یہ کمپنی کے جاری کردہ مالی اعداد ہیں؛ انہیں مستقبل کے منافع یا حصص کی قیمت کی ضمانت نہیں سمجھا جاسکتا۔
فی حصص آمدن مالی سال 2024-25 کے 39.50 روپے سے بڑھ کر 56.35 روپے ہوگئی۔ بورڈ نے چھ روپے فی حصص حتمی نقد منافع کا اعلان کیا، جو پہلے ادا کیے گئے 11 روپے فی حصص عبوری منافع کے علاوہ ہے۔ اس طرح پورے مالی سال کے لیے مجموعی نقد منافع 17 روپے فی حصص بنتا ہے، جسے کمپنی نے اپنی تاریخ کی بلند ترین سالانہ تقسیم قرار دیا۔ حتمی منافع کی ادائیگی کمپنی کے قابل اطلاق کارپوریٹ طریقۂ کار اور حصص یافتگان کے ریکارڈ سے مشروط ہوگی۔
نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال کے پہلے نو ماہ میں کمپنی کا بعد از ٹیکس منافع تقریباً 115 ارب روپے تھا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 130 ارب روپے سے قریب 12 فیصد کم تھا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مالی سال کی آخری سہ ماہی میں عالمی تیل قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے کمپنی کو تقریباً 128 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع حاصل ہوا، جو پہلے تین سہ ماہی ادوار کے مجموعی منافع سے بھی زیادہ تھا۔ اس لیے پورے سال کی 43 فیصد بہتری کو سال بھر کی یکساں رفتار کے بجائے آخری سہ ماہی کے بڑے اثر کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔
او جی ڈی سی ایل نے بتایا کہ مالی سال کے دوران کارپوریٹ ٹیکس، منافعِ حصص، رائلٹی اور دیگر سرکاری محصولات کی صورت میں قومی خزانے کو 187 ارب روپے دیے گئے۔ کمپنی نے اپنی ملکی تیل و گیس پیداوار سے درآمدی متبادل کے ذریعے 3.31 ارب ڈالر کی تخمینی زرمبادلہ بچت کا بھی دعویٰ کیا۔ یہ بچت کمپنی کا تخمینہ ہے، براہ راست نقد زرمبادلہ آمدن نہیں؛ اس کا حساب اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اگر مساوی توانائی درآمد کرنا پڑتی تو کتنی لاگت آتی۔
کمپنی کے مطابق سال کے دوران وصولیوں کی شرح 107 فیصد رہی اور مجموعی طور پر 577 ارب روپے جمع کیے گئے۔ 100 فیصد سے زیادہ وصولی کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جاری سال کی فروخت کے ساتھ سابقہ واجبات بھی وصول ہوئے، مگر دستیاب رپورٹ میں 577 ارب روپے کی مدت وار مکمل درجہ بندی نہیں دی گئی۔ اس لیے اسے صرف ایک سال کی فروخت آمدن کے مساوی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
تلاش و پیداوار کے شعبے میں او جی ڈی سی ایل نے نو تیل و گیس دریافتوں کی اطلاع دی۔ کمپنی کے مطابق ان سے ثابت شدہ اور ممکنہ، یعنی 2P، ذخائر میں 120 ملین بیرل مساوی تیل کا اضافہ ہوا اور ذخائر کی تبدیلی کی شرح 236 فیصد رہی، جسے اس نے تاریخی بلند سطح قرار دیا۔ 2P ذخائر ایک تکنیکی تخمینہ ہوتے ہیں اور حقیقی تجارتی پیداوار فیلڈ کی ترقی، مزید جانچ، قیمت، ضابطہ جاتی منظوری اور بنیادی ڈھانچے پر منحصر رہتی ہے۔ دریافت کو فوری فروخت یا مکمل پیداواری ذخیرے کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔
کمپنی نے مالی سال میں 23 کنوؤں کی کھدائی شروع کرنے، مجموعی طور پر 58 ہزار 333 میٹر ڈرلنگ اور مزید 15 تلاش بلاکس میں مفادات حاصل کرنے کی اطلاع بھی دی۔ اوسط یومیہ قابل فروخت پیداوار 32 ہزار 861 بیرل خام تیل، 667 ملین مکعب فٹ گیس اور 670 ٹن ایل پی جی رہی۔ کمپنی کے مطابق یہ بالترتیب 6.3 فیصد، 2.3 فیصد اور 4.4 فیصد سالانہ اضافہ ہے، حالانکہ بعض مقامات پر پیداوار محدود کرنے کے عوامل موجود رہے۔
اپریل 2026 میں مجموعی خام تیل پیداوار 40 ہزار بیرل یومیہ سے تجاوز کرنے کی اطلاع دی گئی، جسے 27 سہ ماہی ادوار میں پہلی بار یہ سطح عبور کرنا قرار دیا گیا۔ یہ ایک مخصوص مہینے کی مجموعی پیداوار ہے، جبکہ سالانہ اوسط قابل فروخت پیداوار کا پیمانہ الگ ہے۔ دونوں اعداد کو براہ راست ایک دوسرے کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت بورڈ سے منظور شدہ مالی نتائج، 242.4 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع، 449.19 ارب روپے خالص فروخت، 17 روپے فی حصص مجموعی سالانہ نقد منافع اور کمپنی کے جاری کردہ تلاش و پیداوار اعداد ہیں۔ آئندہ کارکردگی عالمی توانائی قیمتوں، ملکی پیداواری پابندیوں، گردشی واجبات، نئی دریافتوں کی تجارتی ترقی اور کمپنی کے عملی اخراجات سے متاثر ہوسکتی ہے۔




