آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے نومبر 2026 کے لیے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی صارف قیمت میں اضافہ کرتے ہوئے اسے تقریباً 294 روپے فی کلو مقرر کر دیا ہے، جبکہ 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت 3,470 روپے ہو گئی ہے۔ اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق نومبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت 294,075 روپے فی ٹن مقرر کی گئی، جو اکتوبر کے 279,341 روپے فی ٹن کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس حساب سے فی کلو قیمت میں تقریباً 14.73 روپے اور گھریلو سلنڈر میں 173 روپے اضافہ ہوا۔

اوگرا نے قیمت میں تبدیلی کو سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس اور روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی شرح تبادلہ سے منسلک کیا ہے۔ ریگولیٹر کے مطابق متعلقہ مدت میں سعودی آرامکو سی پی میں 6.47 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اوسط ڈالر شرح میں معمولی 0.12 فیصد کمی ہوئی، جس کے مجموعی اثر سے صارف قیمت بڑھی۔

سرکاری نرخ کے باوجود مارکیٹ میں ایل پی جی کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر اوپن مارکیٹ نرخ 630 روپے فی کلو تک پہنچ گئے، جبکہ کمپنیوں کے زیر انتظام بعض فرنچائزز پر تقریباً 400 روپے فی کلو وصول کیے جا رہے تھے۔ صنعت سے وابستہ نمائندوں نے اس فرق کو ایران سرحد کی بندش اور درآمدی سپلائی میں رکاوٹ سے جوڑا ہے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کے مطابق ایران سے آنے والی سپلائی میں خلل نے صورتحال کو سنگین بنایا ہے؛ یہ صنعت کا دعویٰ ہے اور مارکیٹ کے تمام حصوں کے لیے یکساں نرخ کی سرکاری تصدیق نہیں۔

دوسری جانب پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن نے مجوزہ نئی ایل پی جی پالیسی پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے 16 نومبر سے ہڑتال کی دھمکی دی ہے۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی کی تیاری میں نجی شعبے کی رائے مناسب طور پر شامل نہیں کی گئی اور شعبے کی ڈی ریگولیشن واپس نہیں لی جانی چاہیے۔ تنظیم نے پٹرولیم وزیر کو بھی اپنے اعتراضات سے آگاہ کیا ہے۔

قیمت اور دستیابی کا یہ مسئلہ گھریلو صارفین کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ سردیوں میں ان علاقوں میں ایل پی جی کی طلب بڑھتی ہے جہاں پائپ لائن گیس محدود یا دستیاب نہیں۔ سرکاری نرخ اور عملی مارکیٹ قیمت کے درمیان بڑا فرق ریگولیٹری نفاذ، سپلائی چین اور ذخیرہ اندوزی یا مارکیٹ manipulation سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔ متعلقہ ایسوسی ایشنز نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ نومبر کی سرکاری قیمت اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق نافذ ہے۔