نیویارک: مشرق وسطیٰ میں توانائی تنصیبات اور بحری جہازوں پر نئے حملوں کے بعد پیر 14 ستمبر 2026 کو عالمی خام تیل کی قیمتیں 2 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔ رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے فیوچرز دوپہر تک 2.72 ڈالر، یا 2.6 فیصد، بڑھ کر 107.33 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.51 ڈالر، یا 2.5 فیصد، اضافے سے 102.56 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

بازار کی توجہ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر مرکوز رہی، جسے جمعہ کے حملے کے بعد بند کرنا پڑا۔ ریاض نے اس حملے کا الزام عراق میں ایران سے منسلک جنگجوؤں پر عائد کیا ہے۔ یہ الزام سعودی حکام کا مؤقف ہے؛ اس مخصوص حملے کی ذمہ داری سے متعلق کوئی آزاد حتمی عدالتی یا بین الاقوامی نتیجہ رائٹرز کی اس رپورٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ پائپ لائن کی بندش نے خام تیل کو خلیج سے بحیرہ احمر کی جانب منتقل کرنے کی ایک اہم متبادل راہ متاثر کی ہے۔

رائٹرز کے مطابق اس رکاوٹ سے عالمی تیل رسد کے تقریباً 4 فیصد تک کے حصے کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کے ینبع بندرگاہ کے ذخائر پانچ سے سات دن کی برآمدات کا سہارا دے سکتے ہیں، جس کے باعث بازار میں فوری گھبراہٹ محدود رہی، لیکن اگر پائپ لائن طویل عرصے تک بند رہی تو رسد پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے بھی کہا کہ موجودہ قیمت ردعمل اس توقع کی عکاسی کرتا ہے کہ سعودی ذخائر مختصر مدت میں برآمدات کو سنبھال لیں گے۔

آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت بھی کم ہوئی ہے۔ ابتدائی شپ ٹریکنگ اعداد کے مطابق ہفتے کے آخر میں روزانہ کموڈٹی جہازوں کی آمدورفت ایک ہندسے تک گر گئی، جبکہ پچھلے دس دن کی اوسط تقریباً 14 یومیہ تھی۔ فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل رسد اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی، اس لیے وہاں کسی بھی رکاوٹ کا عالمی بازار پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔

یمن کے ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب پر ایک نئے حملے کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ انہوں نے خمیس مشیط کے فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون داغے۔ ان دعوؤں کی تمام عملی تفصیلات آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں، اس لیے انہیں فریق کے بیان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ایران نے ہرمز میں اپنے پروٹوکول کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے 77 جہازوں کی فہرست بھی جاری کی ہے۔

تیل کی قیمتیں دن کے دوران تقریباً 4 فیصد تک بڑھی تھیں مگر بعد میں کچھ فائدہ کم ہوا، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین اور روس کے ایک دوسرے کے توانائی اہداف پر حملے روکنے سے متعلق بیان اور ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی امید کا بھی کردار رہا۔ موجودہ اضافہ بازار کی فوری قیمت حرکت ہے؛ مستقبل کی قیمتیں پائپ لائن کی مرمت، ہرمز اور بحیرہ احمر کی جہاز رانی، علاقائی لڑائی اور بڑے پیدا کنندگان کی رسد پر منحصر رہیں گی۔