لندن: مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی اور اسرائیل کی جانب سے تہران کو نئی دھمکیوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چھ ہفتوں کی بلند سطح کے قریب پہنچ گئیں۔ جمعرات کو برینٹ خام تیل کے سودے 1.8 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 97.39 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.1 فیصد بڑھ کر 92.92 ڈالر فی بیرل تک پہنچا۔
رائٹرز کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ یہ خدشہ تھا کہ ایران کے خلاف نئے امریکی حملے اور خطے میں مزید کشیدگی مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور وہاں جہازوں کی آمدورفت میں کمی یا خطرات میں اضافہ فوری طور پر عالمی قیمتوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔
ابتدائی شپنگ ڈیٹا کے مطابق بدھ کو ہرمز سے گزرنے والے کموڈٹی جہازوں کی تعداد حالیہ اوسط سے کم رہی۔ ایران نے بعض جہازوں کو غیر تعمیل کنندہ قرار دیتے ہوئے جرمانے، ضبطی یا حراست کی دھمکی بھی دی ہے، جس سے تجارتی کمپنیوں کے لیے انشورنس اور راستے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
دوسری طرف عراق نے اگست میں تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا، جو محدود حد تک سپلائی کے دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی ذخائر میں کمی اور جغرافیائی سیاسی خطرات ایک ساتھ قیمتوں کو سہارا دے رہے ہیں۔
تیل کی بلند قیمتیں پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے اہم ہیں کیونکہ ان کا اثر درآمدی بل، روپے پر دباؤ، ٹرانسپورٹ لاگت اور مہنگائی تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم عالمی قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں اور جنگی صورتحال، شپنگ، پیداوار اور مالیاتی منڈیوں کی نئی اطلاعات کے ساتھ روزانہ نمایاں اتار چڑھاؤ ممکن ہے۔




