پاکستانی توانائی کمپنی آئل بوائے انرجی لمیٹڈ نے ملک بھر میں 70 الیکٹرک وہیکل فاسٹ چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کے لیے ایک ارب روپے کے رائٹس ایشو کے ذریعے سرمایہ جمع کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ کمپنی اس سرمایہ کو روایتی توانائی کاروبار سے برقی گاڑیوں کے انفراسٹرکچر کی طرف توسیع میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔

فاسٹ چارجنگ نیٹ ورک الیکٹرک گاڑیوں کے وسیع استعمال کے لیے بنیادی انفراسٹرکچر سمجھا جاتا ہے کیونکہ طویل فاصلے کے سفر میں صارفین کو قابل اعتماد اور تیز چارجنگ پوائنٹس درکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ای وی مارکیٹ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن موٹر سائیکل، رکشہ اور کار کے متعدد برقی ماڈلز مارکیٹ میں آ رہے ہیں۔

ایک ارب روپے کا رائٹس ایشو موجودہ حصص داروں کو اضافی حصص خریدنے کا حق دے گا۔ فنڈنگ کی حتمی دستیابی سرمایہ کاروں کی شرکت اور متعلقہ کارپوریٹ و ریگولیٹری مراحل سے مشروط ہوگی، اس لیے 70 اسٹیشنوں کی تعمیر کو ابھی مکمل شدہ سرمایہ کاری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

چارجنگ اسٹیشنوں کی تجارتی کامیابی مقام، بجلی کی دستیابی، ٹیرف، گاڑیوں کی تعداد اور چارجر کے استعمال کی شرح پر منحصر ہوگی۔ فاسٹ چارجرز گرڈ پر زیادہ فوری لوڈ ڈال سکتے ہیں، اس لیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور مقامی انفراسٹرکچر کے ساتھ تکنیکی ہم آہنگی بھی ضروری ہوگی۔

اگر منصوبہ مکمل ہوتا ہے تو یہ پاکستان میں نجی شعبے کے بڑے ای وی چارجنگ نیٹ ورکس میں شامل ہو سکتا ہے۔ قومی ای وی پالیسی کے لیے گاڑیوں کی درآمد یا مقامی تیاری کے ساتھ چارجنگ، بیٹری معیار اور صارفین کے لیے یکساں تکنیکی معیار اہم ہیں۔ آئل بوائے کا منصوبہ اس ابھرتی مارکیٹ میں نجی سرمایہ کاری کی بڑھتی دلچسپی ظاہر کرتا ہے۔