اسلام آباد: انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین، یو این ایچ سی آر، کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تین صوبوں میں رپورٹ شدہ مدت کے دوران 500 سے زائد افغان شہریوں کی گرفتاری یا حراست کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں تقریباً 56 فیصد بلوچستان، 34 فیصد پنجاب اور 10 فیصد خیبر پختونخوا میں سامنے آئے۔
یہ اعداد رپورٹ کیے گئے گرفتاری اور حراست کے واقعات کی جغرافیائی تقسیم ظاہر کرتے ہیں۔ انہیں پاکستان میں موجود تمام افغان شہریوں کی قانونی حیثیت یا مجموعی تعداد کا پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ افغان آبادی میں مختلف دستاویزی حیثیت رکھنے والے افراد شامل ہیں، جن میں رجسٹرڈ مہاجرین، افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے، ویزا پر موجود افراد اور دستاویزات کے بغیر رہنے والے لوگ شامل ہوسکتے ہیں۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں غیر ملکی شہریوں کی دستاویزی حیثیت اور واپسی سے متعلق پالیسی سخت کی ہے، جس کے نتیجے میں افغان شہریوں کی گرفتاری، حراست اور وطن واپسی کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ امیگریشن قوانین کا نفاذ ریاست کا حق ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے ادارے واپسی کے عمل میں رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار طریقہ کار اور تحفظ کی مخصوص ضروریات پر زور دیتے ہیں۔
حراست سے متعلق اعداد میں ہر فرد کے کیس کی قانونی تفصیل یکساں نہیں ہوتی۔ کسی شخص کے پاس دستاویز نہ ہونا، دستاویز کی میعاد ختم ہونا، رہائش کے قواعد یا دیگر امیگریشن معاملات مختلف قانونی نتائج پیدا کرسکتے ہیں۔ اسی لیے رپورٹ میں مجموعی اعداد کے ساتھ انفرادی کیسز کے لیے قانونی جانچ اور تحفظ کے تقاضے اہم رہتے ہیں۔
بلوچستان میں رپورٹ شدہ واقعات کا زیادہ تناسب جغرافیائی طور پر افغانستان سے سرحد اور واپسی کے اہم راستوں سے بھی متعلق ہوسکتا ہے، تاہم کسی مخصوص وجہ کے لیے تفصیلی انتظامی ڈیٹا درکار ہوگا۔ آنے والے عرصے میں حکومت پاکستان، آئی او ایم اور یو این ایچ سی آر کے اعداد و بیانات سے معلوم ہوگا کہ گرفتاریوں، واپسی اور دستاویزی عمل کا رجحان کس سمت جاتا ہے۔ افغان شہریوں کے معاملے میں قانونی حیثیت اور انسانی تحفظ دونوں پہلو پالیسی کے مرکزی سوالات رہیں گے۔
