اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز میں مالی نظم و نسق اور اکاؤنٹنگ کے طریقہ کار پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے وزارت خارجہ سے تفصیلی وضاحت طلب کی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ سے متعلق امور زیر غور آئے اور ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ سفارت خانوں اور مشنز میں سرکاری رقوم کے استعمال کے لیے مؤثر نگرانی، ذمہ داریوں کی واضح تقسیم اور بروقت حسابات ضروری ہیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کے سامنے ویانا سمیت بیرون ملک مشنز سے متعلق مالی معاملات کا ذکر آیا، جہاں اکاؤنٹنگ انتظامات اور مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔ پی اے سی نے وزارت خارجہ کے حکام سے دریافت کیا کہ مالی امور سنبھالنے والے اہلکاروں کی تعیناتی، ان کی نگرانی اور حسابات کی جانچ کے لیے کون سا داخلی نظام موجود ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ بیرون ملک تعیناتی انتظامی سہولت ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ مالی جواب دہی کے تقاضے کم نہیں ہو جاتے۔

اجلاس میں زیر بحث نکات کا تعلق آڈٹ اور نگرانی سے تھا، اس لیے کسی فرد یا افسر کے خلاف اٹھائے گئے سوال کو حتمی طور پر ثابت شدہ بدعنوانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آڈٹ اعتراض، کمیٹی کی چھان بین اور کسی مجاز تفتیشی یا عدالتی فورم کی حتمی finding الگ مراحل ہیں۔ اسی بنا پر کمیٹی نے وزارت سے ریکارڈ اور وضاحت مانگنے پر توجہ دی تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ کہاں انتظامی کمزوری، قواعد کی خلاف ورزی یا مزید تحقیقات کی ضرورت موجود ہے۔

پاکستان کے بیرون ملک مشنز میں مالی انتظام وزارت خارجہ کے لیے ایک حساس ذمہ داری ہے کیونکہ اخراجات مختلف ممالک، کرنسیوں اور مقامی انتظامی ضروریات کے تحت کیے جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں داخلی کنٹرول، بینک ریکارڈ، ادائیگیوں کی دستاویزات اور ذمہ دار اہلکاروں کے اختیارات کی باقاعدہ جانچ مالی خطرات کم کرنے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

پی اے سی پارلیمان کا احتسابی فورم ہے جو سرکاری اخراجات سے متعلق آڈیٹر جنرل کے اعتراضات اور متعلقہ وزارتوں کے جوابات کا جائزہ لیتا ہے۔ کمیٹی کی ہدایات کے بعد وزارت خارجہ کو مطلوبہ معلومات اور ریکارڈ پیش کرنا ہوگا، جس کے بعد کمیٹی یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ معاملہ وضاحت سے نمٹ جاتا ہے یا مزید محکمانہ اور قانونی کارروائی کی سفارش ضروری ہے۔ اس مرحلے پر دستیاب معلومات بنیادی طور پر پارلیمانی نگرانی اور جواب طلبی سے متعلق ہیں، نہ کہ کسی حتمی مجرمانہ نتیجے سے۔