اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو ان مقدمات کی سماعت سے روک دیا ہے جو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت حراست میں لیے گئے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور سرگرم افراد سے متعلق ہیں۔ ڈان کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس عامر فاروق بھی شامل تھے، نے یہ عبوری ہدایت جاری کی۔

وفاقی آئینی عدالت کے سامنے وہ درخواستیں زیر سماعت آئیں جن میں پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے زیر حراست افراد کو دی گئی عبوری ضمانتوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔ پشاور ہائیکورٹ نے متعلقہ افراد کو ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض عبوری ریلیف دیا تھا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں یہ معاملہ 12 نومبر کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر تھا، تاہم وفاقی آئینی عدالت کی تازہ ہدایت کے بعد اس عدالتی عمل پر فی الحال پابندی عائد ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے عبوری احکامات اس وقت جاری کیے تھے جب صوبائی حکومت کی جانب سے ایسی کوئی رپورٹ عدالت کے سامنے موجود نہیں تھی جس میں حراست کی وجوہات اور حالات کی وضاحت کی گئی ہو۔ ایم پی او کے تحت انتظامیہ کو امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے بعض حالات میں احتیاطی حراست کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں، لیکن ایسے اقدامات عدالتی جانچ کے تابع رہتے ہیں اور زیر حراست افراد قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت کا موجودہ حکم حتمی فیصلہ نہیں بلکہ زیر سماعت تنازع میں عدالتی کارروائی کی سمت متعین کرنے والا عبوری اقدام ہے۔ اس مرحلے پر نہ تو زیر حراست افراد کے خلاف الزامات کا حتمی عدالتی تعین ہوا ہے اور نہ ہی پشاور ہائیکورٹ کے عبوری ریلیف کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ سامنے آیا ہے۔ درخواست گزاروں اور متعلقہ حکومت کے دلائل کے بعد وفاقی آئینی عدالت آئینی اور قانونی نکات پر مزید حکم جاری کر سکتی ہے۔

یہ مقدمہ خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی اور انتظامی صورت حال کے تناظر میں اہم ہے کیونکہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد سیاسی کارکنوں کی حراست، امن عامہ کے اختیارات اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے سوالات بیک وقت سامنے آئے ہیں۔ عدالتی کارروائی میں اس بات کا تعین اہم ہوگا کہ ایم پی او کے تحت کیے گئے انتظامی اقدامات کس حد تک قانونی تقاضوں سے مطابقت رکھتے ہیں اور مختلف عدالتوں کا دائرہ اختیار کس طرح لاگو ہوتا ہے۔

ڈان نے اس پیش رفت کو وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ کی کارروائی کی بنیاد پر رپورٹ کیا ہے۔ آئندہ سماعتوں میں مقدمے کے مکمل ریکارڈ، صوبائی انتظامیہ کی وجوہات اور زیر حراست افراد کی جانب سے پیش کیے جانے والے قانونی نکات سے اس تنازع کی مزید وضاحت متوقع ہے۔