اسلام آباد: پاکستان نے عالمی سرمایہ منڈی میں دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ فروخت کرکے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر حاصل کیے ہیں۔ وزارت خزانہ نے اس لین دین کو ایک ہی مرتبہ میں پاکستان کا اب تک کا سب سے بڑا بین الاقوامی بانڈ اجرا قرار دیا ہے۔ حکومتی تفصیلات کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے تقریباً 6 ارب ڈالر کے آرڈرز موصول ہوئے، تاہم جاری کیے گئے بانڈز کی اصل مالیت 3 ارب ڈالر رہی۔

لین دین کے پہلے حصے میں 1 ارب 75 کروڑ ڈالر کا ساڑھے پانچ سالہ یورو بانڈ شامل ہے، جس کی کوپن شرح 7.50 فیصد مقرر کی گئی۔ دوسرے حصے میں 1 ارب 25 کروڑ ڈالر کا 10 سالہ بانڈ جاری کیا گیا، جس پر کوپن شرح 7.90 فیصد ہے۔ آرڈر بک کا حجم جاری کردہ رقم سے تقریباً دو گنا رہا اور وزارت کے مطابق مختلف خطوں کے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے اس پیشکش میں حصہ لیا۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ اجرا پاکستان کے تجدید شدہ گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت پہلا لین دین ہے۔ حکومت نے اسے بیرونی مالی وسائل کے ذرائع میں تنوع، قرضوں کی مدت بڑھانے اور قلیل مدتی ری فنانسنگ یا رول اوور کے دباؤ کو کم کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دیا ہے۔ لین دین کے انتظام میں بین الاقوامی بینکوں اور پاکستان کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس نے کردار ادا کیا۔

یہ وضاحت ضروری ہے کہ تقریباً 6 ارب ڈالر کے آرڈرز سرمایہ کاروں کی مجموعی طلب کو ظاہر کرتے ہیں، یہ پوری رقم پاکستان کو موصول نہیں ہوئی۔ حکومت نے 3 ارب ڈالر کے بانڈز فروخت کیے ہیں اور ان پر طے شدہ شرح کے مطابق سود اور اصل زر کی ادائیگی مستقبل میں کرنا ہوگی۔ اس لیے کامیاب سبسکرپشن کے ساتھ نئی بیرونی ذمہ داریاں بھی ملکی قرضوں کے مجموعی نظم کا حصہ بنیں گی۔

وزارت نے مضبوط آرڈر بک کو بین الاقوامی منڈی تک رسائی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اشارہ قرار دیا، تاہم بانڈ اجرا بذات خود معاشی اصلاحات کی تکمیل نہیں ہے۔ اس رقم کے استعمال، مستقبل کی ادائیگیوں، زرمبادلہ کی ضروریات اور قرضوں کی مدت کے انتظام کے نتائج آئندہ مالیاتی اعداد و شمار اور حکومتی قرض حکمت عملی سے واضح ہوں گے۔ پاکستان نے حالیہ عرصے میں بین الاقوامی سرمایہ منڈی تک رسائی بحال کرنے اور دوطرفہ و کثیرطرفہ ذرائع کے ساتھ تجارتی قرض کے متبادل بھی استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔