پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بامعنی بہتری کابل کی جانب سے پاکستان کے خلاف سرگرم مسلح گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات سے مشروط رہے گی۔ ترجمان نے کہا کہ محض سفارتی رابطے کافی نہیں اور پاکستان تحریری یقین دہانی اور عملی نتائج چاہتا ہے۔

اسلام آباد طویل عرصے سے تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروہوں کی افغانستان میں موجودگی اور وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ افغان طالبان حکومت ان الزامات کے بعض حصوں کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کا مطالبہ یہ ہے کہ یقین دہانیاں قابل تصدیق ہوں اور عملی سطح پر حملوں، پناہ گاہوں اور سرحد پار نقل و حرکت میں کمی نظر آئے۔ یہ مؤقف حالیہ اعلیٰ سطحی بیانات کے باوجود سکیورٹی کو دوطرفہ تعلقات کا بنیادی مسئلہ برقرار رکھتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت، ٹرانزٹ، مہاجرین اور علاقائی رابطہ کاری کے بڑے مشترکہ مفادات موجود ہیں۔ کشیدہ سکیورٹی تعلقات سرحدی تجارت اور وسطی ایشیا تک مجوزہ منصوبوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

دونوں ممالک کے دعوے اور الزامات کئی معاملات میں متنازع ہیں اور مخصوص واقعات کی آزادانہ تصدیق الگ شواہد کی متقاضی ہے۔ دفتر خارجہ کا تازہ بیان واضح کرتا ہے کہ اسلام آباد سفارتی معمول پر واپسی کو انسداد دہشت گردی میں قابل پیمائش پیش رفت سے جوڑ رہا ہے۔ آئندہ مذاکرات کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ دونوں فریق سکیورٹی شکایات کے لیے قابل اعتماد تصدیقی طریقہ کار قائم کر پاتے ہیں یا نہیں۔