وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا اور تجارت، رابطہ کاری اور علاقائی تعاون آگے بڑھانا چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے استعمال سے متعلق سکیورٹی خدشات کا مؤثر اور قابل اعتماد حل ضروری ہے۔ انہوں نے یہ مؤقف بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر پاکستان کی علاقائی پالیسی بیان کرتے ہوئے پیش کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پرامن، مستحکم اور معاشی طور پر فعال افغانستان پاکستان اور پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان افغان عوام کے ساتھ تاریخی اور جغرافیائی روابط کو اہم سمجھتا ہے اور تجارت و ٹرانزٹ کے ذریعے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچانے کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم اسلام آباد کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی مسلح گروہ کو پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال نہ کرنے دی جائے۔

پاکستانی حکام طویل عرصے سے تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان میں موجودگی اور وہاں سے حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ افغان طالبان حکومت ان الزامات کے بعض حصوں کی تردید کرتی رہی ہے اور کہتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ دونوں جانب کے یہ مؤقف متنازع سکیورٹی مسئلے کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہر مخصوص حملے یا نیٹ ورک سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق الگ شواہد کی متقاضی ہے۔

حالیہ مہینوں میں سرحدی کشیدگی، تجارت کی بندش اور سکیورٹی واقعات نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو شدید متاثر کیا ہے۔ معمول کے تعلقات کی بحالی سے سرحدی تجارت، ٹرانزٹ، وسطی ایشیا تک پاکستان کی رسائی اور افغان معیشت کے لیے بندرگاہی سہولتوں میں بہتری آ سکتی ہے۔ دوسری طرف مستقل سکیورٹی تنازع کسی بھی معاشی تعاون کو محدود کر سکتا ہے۔

ایس سی او کے پلیٹ فارم پر افغانستان کی سلامتی اور معاشی انضمام متعدد رکن ممالک کی مشترکہ دلچسپی ہے۔ پاکستان کی نئی چیئرمین شپ کے دوران اسلام آباد علاقائی رابطہ کاری کو اپنی ترجیحات میں شامل کر چکا ہے۔ افغانستان کے ساتھ عملی پیش رفت کے لیے دوطرفہ مذاکرات، سرحدی انتظام اور دہشت گردی سے متعلق قابل تصدیق اقدامات اہم ہوں گے۔ وزیراعظم کا بیان سیاسی آمادگی کی نشاندہی کرتا ہے، مگر تعلقات کی حقیقی بحالی دونوں حکومتوں کے عملی اقدامات پر منحصر رہے گی۔