وزیراعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کرکے پاکستان اور قازقستان کے درمیان ٹرانزٹ تجارت، ٹرانسپورٹ رابطوں، توانائی اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے وسطی ایشیا کو پاکستان کی بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے جوڑنے والے راستوں کو معاشی شراکت داری کے لیے اہم قرار دیا۔
پاکستان جغرافیائی طور پر وسطی ایشیائی ممالک کو کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں تک نسبتاً مختصر زمینی رسائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کے لیے افغانستان سمیت ٹرانزٹ راستوں پر امن، کسٹمز سہولت، ریل و سڑک انفراسٹرکچر اور قابل اعتماد لاجسٹکس ضروری ہیں۔ قازقستان وسطی ایشیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور تیل، گیس، معدنیات اور زرعی مصنوعات کا اہم برآمد کنندہ ہے۔
دونوں رہنماؤں نے تجارت بڑھانے کے لیے کاروباری وفود، بینکاری رابطوں اور نقل و حمل کے انتظامات بہتر بنانے کی ضرورت پر بات کی۔ پاکستان قازقستان سے توانائی اور خام مال حاصل کرنے جبکہ اپنی ٹیکسٹائل، ادویات، زرعی مصنوعات، کھیلوں کے سامان اور دیگر مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
علاقائی رابطہ کاری پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ کی بنیادی ترجیحات میں بھی شامل ہے۔ اسلام آباد ٹرانس افغان ریلوے، سڑک راہداریوں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کو وسطی ایشیا کے ساتھ وسیع تر رابطے کے ممکنہ حصوں کے طور پر پیش کرتا ہے۔ تاہم بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے کثیرملکی سیاسی اتفاق، سرمایہ کاری اور طویل مدتی سکیورٹی ضروری ہوگی۔
بشکیک ملاقات میں کسی نئے ٹرانزٹ معاہدے یا مخصوص منصوبے کی حتمی لاگت کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے فی الحال یہ اعلیٰ سطحی سیاسی اتفاق ہے۔ عملی پیش رفت کے لیے کسٹمز، ٹرانسپورٹ اور تجارت کے حکام کے درمیان تکنیکی مذاکرات ضروری ہوں گے۔ دونوں ممالک کے لیے کامیاب رابطہ کاری قازقستان کو جنوبی ایشیائی منڈیوں اور سمندر تک اضافی رسائی جبکہ پاکستان کو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت اور ٹرانزٹ آمدن کے نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔




