وزیراعظم شہباز شریف نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے پاکستان اور عمان کے دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے سفارتی حل کی حمایت پر زور دیا۔

عمان مشرق وسطیٰ میں متوازن خارجہ پالیسی اور متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے جانا جاتا ہے۔ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان مختلف ادوار میں مسقط نے سفارتی رابطوں اور ثالثی میں کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم نے موجودہ بحران میں بھی عمان کی امن اور مذاکرات پر مبنی کوششوں کو اہم قرار دیا۔

پاکستان اور عمان کے درمیان بحیرہ عرب کے ذریعے قریبی جغرافیائی رابطہ ہے اور بڑی تعداد میں پاکستانی عمان میں کام کرتی ہے۔ دونوں ممالک تجارت، بندرگاہوں، ماہی گیری، معدنیات، توانائی اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات رکھتے ہیں۔ گوادر اور عمان کے درمیان تاریخی اور جغرافیائی روابط بھی دوطرفہ تعلقات کی ایک منفرد جہت ہیں۔

وزیراعظم نے عمانی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں توانائی، کان کنی، لاجسٹکس اور دیگر شعبوں میں مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دہرائی۔ تاہم تازہ فون کال میں کسی مخصوص نئے منصوبے یا سرمایہ کاری رقم کا اعلان نہیں ہوا۔ دونوں حکومتوں کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے کاروباری وفود اور سرکاری سطح کے رابطوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

موجودہ علاقائی جنگ نے عمان کی سفارتی اہمیت بڑھا دی ہے کیونکہ مسقط مختلف فریقوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان بھی جنگ کے پھیلاؤ کو اپنے توانائی، تجارت اور خلیجی افرادی قوت کے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ دونوں رہنماؤں کا رابطہ اقتصادی تعلقات کے ساتھ علاقائی سفارت کاری میں تعاون جاری رکھنے کی مشترکہ خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔