وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے پاکستان قطر دوطرفہ تعلقات، توانائی تعاون اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
قطر پاکستان کے لیے مائع قدرتی گیس، ایل این جی، کا ایک اہم فراہم کنندہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی توانائی معاہدے موجود ہیں۔ موجودہ علاقائی جنگ اور خلیجی شپنگ روٹس میں خطرات نے عالمی گیس اور تیل کی رسد کے بارے میں خدشات بڑھائے ہیں۔ پاکستان کے لیے توانائی درآمدات کی قیمت اور تسلسل معاشی استحکام سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم نے قطر کے ساتھ سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ قطر پاکستانی افرادی قوت، سرمایہ کاری اور توانائی کے حوالے سے اہم خلیجی شراکت دار ہے۔ پاکستانی حکام قطر کی سرمایہ کاری کو توانائی، ہوابازی، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں بڑھانے کے لیے رابطے کرتے رہے ہیں، تاہم تازہ فون کال میں کسی مخصوص نئی سرمایہ کاری کی رقم یا معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں انسانی صورتحال اور جنگ کے پھیلاؤ کے خطرات پر بھی بات کی۔ قطر علاقائی تنازعات میں ثالثی اور مذاکرات کے پلیٹ فارم کے طور پر اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے بھی موجودہ بحران میں فوجی کشیدگی کے بجائے سفارتی حل کی حمایت کی ہے۔
رابطے میں دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ پاکستان کے لیے قطر کے ساتھ تعلقات میں توانائی کی فراہمی فوری معاشی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ طویل مدت میں سرمایہ کاری اور تجارت کا دائرہ بڑھانا دونوں حکومتوں کی ترجیح ہے۔ علاقائی جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اس شراکت داری کی اہمیت مزید بڑھا رہی ہے۔




