وزیراعظم شہباز شریف اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے فلسطین، غزہ کی انسانی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے اور تنازعات کے سیاسی و سفارتی حل کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اردن فلسطینی مسئلے سے براہ راست جڑا ہوا اہم عرب ملک ہے اور مغربی کنارے کے ساتھ سرحد رکھتا ہے۔ ملک میں بڑی فلسطینی آبادی بھی موجود ہے، اس لیے غزہ اور فلسطینی علاقوں میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے سیاسی، انسانی اور سکیورٹی اثرات عمان کے لیے فوری اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے فلسطینی ریاست کے قیام اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کی حمایت دہرائی۔
دونوں رہنماؤں نے غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور شہریوں کے تحفظ پر زور دیا۔ اردن فضائی اور زمینی ذرائع سے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتا رہا ہے جبکہ پاکستان بھی فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان بھیجتا رہا ہے۔ انسانی امداد کی اصل رسائی زمینی حالات، سرحدی گزرگاہوں اور جنگی صورتحال سے متاثر ہوتی ہے۔
موجودہ ایران امریکا جنگ نے پہلے سے پیچیدہ مشرق وسطیٰ کے بحران کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ اردن اور پاکستان دونوں جنگ کے پھیلاؤ سے توانائی، تجارت، مہاجرین اور علاقائی سلامتی پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن حل کی حمایت کا مؤقف دہرایا۔
پاکستان اور اردن کے درمیان دفاعی، تعلیمی اور سفارتی روابط بھی موجود ہیں۔ تازہ فون کال کا مرکزی موضوع علاقائی سلامتی اور فلسطین تھا اور کسی نئے دوطرفہ مالی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ رابطہ مسلم اور عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کی جاری سفارتی مشاورت کا حصہ ہے، جس کا مقصد جنگ کے اثرات محدود کرنے اور فلسطینی مسئلے پر مشترکہ مؤقف کو تقویت دینا ہے۔




