وزیراعظم شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے ٹیلی فونک رابطے میں پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور حلال معیشت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے فلسطین اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور سفارتی تعاون جاری رکھنے کی ضرورت بیان کی۔
انڈونیشیا دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک اور جنوب مشرقی ایشیا کی بڑی معیشت ہے۔ پاکستان اور انڈونیشیا کی تجارت میں پام آئل نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جبکہ پاکستان چاول، ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، ادویات اور دیگر مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ دونوں ممالک ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت بھی تجارت کرتے ہیں۔
حلال معیشت دونوں ملکوں کے لیے ایک بڑا ممکنہ تعاون کا شعبہ ہے۔ خوراک، گوشت، ادویات، کاسمیٹکس، اسلامی مالیات اور سیاحت سمیت عالمی حلال مارکیٹ کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پاکستان اپنی زرعی اور لائیو اسٹاک پیداوار جبکہ انڈونیشیا اپنی بڑی صارف منڈی اور سرٹیفکیشن نظام کے ذریعے مشترکہ کاروباری مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت دہرائی۔ پاکستان اور انڈونیشیا دونوں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں رکھتے اور غزہ میں انسانی صورتحال پر بین الاقوامی فورمز پر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ موجودہ علاقائی جنگ نے مسلم ممالک کے درمیان سفارتی مشاورت کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔
فون کال میں کسی مخصوص نئے تجارتی یا سرمایہ کاری معاہدے کی رقم کا اعلان نہیں ہوا، اس لیے پیش رفت کو سیاسی اتفاق کے طور پر دیکھا جائے گا۔ عملی تعاون کے لیے کاروباری وفود، کسٹمز سہولت، براہ راست شپنگ اور حلال معیار کی باہمی شناخت جیسے اقدامات اہم ہوں گے۔ دونوں حکومتوں نے اعلیٰ سطحی رابطے اور اقتصادی شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔




