وزیراعظم شہباز شریف اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے غزہ کی انسانی صورتحال، مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ اور پاکستان مصر دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد، جنگ کے خاتمے اور دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔

مصر غزہ کے ساتھ رفح سرحدی گزرگاہ رکھنے کی وجہ سے فلسطینی بحران میں اہم جغرافیائی اور سفارتی کردار رکھتا ہے۔ قاہرہ جنگ بندی مذاکرات، انسانی امداد اور علاقائی ثالثی کی کوششوں میں بھی شریک رہا ہے۔ پاکستان نے مصر کی ان سفارتی کوششوں کی حمایت اور فلسطینیوں تک امداد پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔

دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں دونوں رہنماؤں نے تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ پاکستان اور مصر کی بڑی آبادی اور متنوع معیشتوں کے باوجود باہمی تجارت اپنی ممکنہ صلاحیت سے کم ہے۔ ٹیکسٹائل، ادویات، چاول، زرعی مصنوعات، کیمیکلز اور انجینئرنگ سامان میں تجارت بڑھانے کے مواقع موجود ہیں۔

دونوں ممالک مسلم دنیا اور اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر بھی تعاون کرتے ہیں۔ موجودہ ایران امریکا جنگ اور غزہ بحران نے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، جس کے باعث پاکستان اور مصر جیسے ممالک کے درمیان سفارتی رابطے بڑھ گئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے تنازعات کے سیاسی اور سفارتی حل کی حمایت کی۔

فون کال میں کسی نئے تجارتی معاہدے یا سرمایہ کاری رقم کا اعلان نہیں کیا گیا۔ عملی اقتصادی پیش رفت کے لیے کاروباری وفود، مارکیٹ رسائی، بینکاری اور شپنگ روابط بہتر بنانے کی ضرورت ہوگی۔ سیاسی سطح پر رابطہ دونوں ممالک کے لیے فلسطین کے مسئلے اور وسیع علاقائی بحران پر مشاورت کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بھی وسعت دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔