وزیراعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صدیر جپاروف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کرکے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارت، تعلیم اور علاقائی رابطہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان معاشی روابط مضبوط کرنے اور عوامی سطح کے تعلقات میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

کرغزستان پاکستانی طلبہ، بالخصوص میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والوں، کے لیے ایک اہم منزل ہے۔ دونوں رہنماؤں نے تعلیمی تعاون اور طلبہ کی فلاح سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ گزشتہ برسوں میں کرغزستان میں پاکستانی طلبہ کی سلامتی اور تعلیمی معیار سے متعلق بعض واقعات اور خدشات سامنے آئے تھے، جس کے بعد دونوں حکومتوں کے درمیان طلبہ کے تحفظ اور رابطہ کاری پر توجہ بڑھی ہے۔

تجارت کے شعبے میں پاکستان اور کرغزستان کا موجودہ حجم محدود ہے، لیکن دونوں ممالک ادویات، ٹیکسٹائل، خوراک، زرعی مصنوعات اور خدمات میں مواقع دیکھتے ہیں۔ براہ راست ٹرانسپورٹ اور بینکاری سہولتوں کی کمی تجارت بڑھانے میں رکاوٹ رہی ہے۔ ایس سی او اور علاقائی ٹرانزٹ منصوبے ان رکاوٹوں کو کم کرنے کے ممکنہ پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان وسطی ایشیا کو اپنی بندرگاہوں سے جوڑنے اور چین، افغانستان اور دیگر ہمسایہ راستوں کے ذریعے تجارتی راہداریوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کرغزستان کے لیے جنوبی ایشیائی منڈیوں اور سمندر تک بہتر رسائی نئی تجارتی گنجائش پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم عملی رابطہ کاری کے لیے کئی ممالک کے کسٹمز، ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی انتظامات کو ہم آہنگ کرنا ضروری ہوگا۔

بشکیک ملاقات نے تعلیم کو روایتی سفارتی اور تجارتی موضوعات کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے اہم ستون کے طور پر نمایاں کیا۔ کسی بڑے نئے معاہدے کی مالی تفصیلات کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن دونوں قیادتوں نے متعلقہ حکام کو موجودہ تعاون کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی ہدایت دی۔ پاکستانی طلبہ کی بڑی موجودگی دونوں ممالک کے درمیان براہ راست انسانی رابطے کا اہم ذریعہ ہے اور اس شعبے میں اعتماد مجموعی تعلقات کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔