وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور حلال صنعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ فلسطین اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارت میں پام آئل، خوراک، ٹیکسٹائل، الیکٹرانکس اور دیگر مصنوعات اہم ہیں۔ پاکستان ملائیشیا سے بڑی مقدار میں پام آئل درآمد کرتا ہے جبکہ اپنی برآمدات اور خدمات کا حصہ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ممالک حلال خوراک، سرٹیفکیشن، اسلامی مالیات اور سیاحت میں بھی مشترکہ مواقع رکھتے ہیں۔
وزیراعظم نے ملائیشین کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ حلال صنعت میں پاکستان کے زرعی اور لائیو اسٹاک وسائل اور ملائیشیا کے عالمی سرٹیفکیشن و مارکیٹنگ تجربے کو باہمی تعاون کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم فون کال میں کسی مخصوص نئے سرمایہ کاری منصوبے یا مالی رقم کا حتمی اعلان نہیں ہوا۔
دونوں رہنماؤں نے فلسطینی عوام کی صورتحال پر تشویش کا اظہار اور دو ریاستی حل کی حمایت دہرائی۔ پاکستان اور ملائیشیا دونوں فلسطینی ریاست کے قیام اور غزہ میں انسانی امداد تک رسائی کے حامی رہے ہیں۔ موجودہ وسیع علاقائی جنگ کے باعث توانائی، تجارت اور مسلم دنیا کے سفارتی ردعمل سے متعلق معاملات بھی اہم ہو گئے ہیں۔
ٹیلی فونک رابطے میں دونوں حکومتوں کے درمیان اعلیٰ سطحی تبادلوں اور کاروباری رابطوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستان کے لیے جنوب مشرقی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی اور ملائیشیا کے لیے پاکستان کی بڑی صارف منڈی و حلال پیداواری صلاحیت دوطرفہ تعاون کے اہم معاشی محرکات ہیں۔ عملی نتائج کا انحصار تجارتی رکاوٹوں، معیار، کسٹمز اور سرمایہ کاری کے قواعد سے متعلق بعد کے مذاکرات پر ہوگا۔




