وزیراعظم شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کرکے ٹرانس افغان ریلوے منصوبے، علاقائی رابطہ کاری اور دوطرفہ تجارت پر پیش رفت تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے وسطی ایشیا کو افغانستان کے راستے پاکستان کی بندرگاہوں سے جوڑنے کو خطے کی معاشی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔
مجوزہ ٹرانس افغان ریلوے ازبکستان سے افغانستان کے راستے پاکستان تک ریل رابطہ فراہم کرنے کا تصور ہے۔ اس منصوبے سے وسطی ایشیائی ممالک کو بحیرہ عرب تک مختصر زمینی راستہ مل سکتا ہے جبکہ پاکستان کے لیے ٹرانزٹ تجارت اور وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی بڑھ سکتی ہے۔ تاہم منصوبے کی حتمی روٹ، مالی لاگت، فنڈنگ اور تعمیراتی مدت جیسے اہم پہلو ابھی مکمل طور پر طے ہونا باقی ہیں۔
افغانستان میں امن اور قابل اعتماد سرحدی و کسٹمز انتظام اس ریلوے کی کامیابی کے لیے بنیادی شرط ہے۔ پاکستان اور ازبکستان دونوں کابل کے ساتھ علاقائی رابطہ کاری کے معاملات پر بات کرتے رہے ہیں۔ موجودہ پاکستان افغانستان سکیورٹی تناؤ منصوبے کے لیے ایک اہم خطرہ ہے، اس لیے سیاسی استحکام اور ٹرانزٹ ضمانتوں کے بغیر بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری مشکل ہو سکتی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت بڑھانے اور کاروباری رابطوں کو سہولت دینے پر بھی زور دیا۔ پاکستان ازبکستان کو ٹیکسٹائل، ادویات، زرعی مصنوعات اور دیگر سامان برآمد کر سکتا ہے جبکہ ازبکستان کپاس، معدنیات، کیمیکلز اور صنعتی مصنوعات فراہم کرتا ہے۔ براہ راست نقل و حمل کے بہتر راستے موجودہ تجارتی اخراجات کم کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ میں علاقائی رابطہ کاری مرکزی ترجیح ہے اور ازبکستان اس ایجنڈے کا اہم وسطی ایشیائی شراکت دار ہے۔ بشکیک ملاقات نے ٹرانس افغان ریلوے کے لیے سیاسی حمایت کا اعادہ کیا ہے، مگر اسے تعمیراتی مرحلے تک پہنچانے کے لیے پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے ساتھ بین الاقوامی مالیاتی شراکت داروں کی عملی شرکت درکار ہوگی۔ فی الحال دونوں ممالک نے متعلقہ اداروں کو تکنیکی اور تجارتی کام تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔




