وزیراعظم شہباز شریف اور بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کرکے پاکستان اور بیلاروس کے درمیان زراعت، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری میں مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں میں طے ہونے والے فیصلوں کے نفاذ کا جائزہ بھی لیا۔
پاکستان بیلاروس کی زرعی مشینری، ٹریکٹرز اور صنعتی ٹیکنالوجی میں مہارت سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ دونوں ممالک مقامی سطح پر زرعی آلات کی تیاری، مشینری کی فراہمی اور تکنیکی تعاون کے امکانات پر پہلے بھی بات کر چکے ہیں۔ پاکستان میں زرعی پیداوار بڑھانے اور میکانائزیشن بہتر بنانے کے لیے جدید مشینری تک رسائی کو اہم پالیسی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔
تجارت کے شعبے میں دونوں حکومتیں موجودہ نسبتاً محدود دوطرفہ حجم کو بڑھانا چاہتی ہیں۔ پاکستانی ٹیکسٹائل، چاول، پھل، کھیلوں کا سامان اور دیگر مصنوعات بیلاروسی منڈی میں مواقع رکھتی ہیں، جبکہ بیلاروس پاکستان کو مشینری، صنعتی مصنوعات اور زرعی ٹیکنالوجی فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم تازہ ملاقات میں کسی مخصوص تجارتی ہدف یا نئے مالی معاہدے کی حتمی رقم کا اعلان نہیں ہوا۔
دونوں رہنماؤں نے کاروباری وفود اور نجی شعبے کے رابطوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ حکومتی سطح پر مفاہمت کی یادداشتیں اور سیاسی اتفاق اسی وقت حقیقی تجارت میں تبدیل ہوتے ہیں جب بینکاری، ادائیگیوں، لاجسٹکس، معیار اور کسٹمز سے متعلق عملی رکاوٹیں دور کی جائیں۔ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان جغرافیائی فاصلے کے باعث ٹرانسپورٹ روابط بھی ایک اہم عنصر ہیں۔
بشکیک ملاقات نے اقتصادی تعاون کو دونوں ممالک کے تعلقات کا مرکزی شعبہ قرار دیا ہے۔ بیلاروس کی صنعتی و زرعی مشینری اور پاکستان کی بڑی زرعی معیشت ایک دوسرے کے لیے تکمیلی مواقع فراہم کر سکتی ہیں۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار مشترکہ منصوبوں کے تجارتی قابل عمل ہونے، مالی انتظامات اور نجی شعبے کی شرکت پر ہوگا۔ دونوں قیادتوں نے متعلقہ اداروں کو پہلے سے طے شدہ فیصلوں پر عمل تیز کرنے کی سیاسی ہدایت دی ہے۔




