وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے پاکستان اور یو اے ای کے دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی استحکام اور سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔

متحدہ عرب امارات پاکستان کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار، سرمایہ کاری کا ذریعہ اور پاکستانی افرادی قوت کی اہم منزل ہے۔ لاکھوں پاکستانی امارات میں کام کرتے ہیں اور ان کی ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی کھاتے کے لیے اہم ہیں۔ علاقائی جنگ، فضائی راستوں اور خلیجی معاشی سرگرمی میں خلل پاکستان کے لیے براہ راست معاشی اہمیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم نے اماراتی سرمایہ کاری کو پاکستان میں توانائی، بندرگاہوں، لاجسٹکس، کان کنی، زراعت اور دیگر شعبوں میں بڑھانے کی خواہش دہرائی۔ دونوں ممالک گزشتہ برسوں میں متعدد سرمایہ کاری تجاویز اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بات کرتے رہے ہیں۔ تازہ رابطے میں کسی نئے منصوبے کی مخصوص مالی رقم یا حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے معاشی اور انسانی اثرات پر بھی گفتگو کی۔ یو اے ای عالمی تجارت اور ہوابازی کا اہم مرکز ہے، اس لیے خلیجی بحری و فضائی راستوں میں عدم استحکام پورے خطے کی سپلائی چین کو متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستان نے تنازعات کے پرامن حل اور سفارتی کوششوں کی حمایت کا مؤقف دہرایا ہے۔

دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی رابطہ برقرار رکھنے اور اقتصادی تعاون کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ پاکستان کے لیے یو اے ای کے ساتھ تعلقات صرف سرمایہ کاری تک محدود نہیں بلکہ روزگار، ترسیلات زر، تجارت اور توانائی سے بھی جڑے ہیں۔ موجودہ علاقائی بحران کے دوران یہ تعلق مزید اہم ہو گیا ہے کیونکہ خلیجی معیشت میں کسی بڑی رکاوٹ کے اثرات پاکستان تک تیزی سے پہنچ سکتے ہیں۔