وزیراعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت، عوامی روابط اور علاقائی تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے حالیہ عرصے میں دوطرفہ تعلقات میں آنے والی بہتری کو عملی اقتصادی اور سفارتی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کئی دہائیوں تک تاریخی اور سیاسی حساسیت سے متاثر رہے، لیکن حالیہ عرصے میں دونوں حکومتوں کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے بڑھے ہیں۔ تجارت، براہ راست فضائی و بحری رابطوں، ویزا سہولتوں اور کاروباری وفود کے تبادلے جیسے معاملات تعلقات میں عملی پیش رفت کے اہم شعبے بنے ہیں۔

دونوں ممالک ٹیکسٹائل، کپاس، چاول، ادویات، کیمیکلز اور دیگر مصنوعات میں تجارتی امکانات رکھتے ہیں۔ بنگلہ دیش عالمی ملبوسات صنعت کا ایک بڑا مرکز ہے جبکہ پاکستان کپاس، یارن اور ٹیکسٹائل خام مال کا اہم پیدا کنندہ ہے۔ بہتر تجارتی سہولت دونوں ممالک کے کاروباری شعبوں کو علاقائی سپلائی چین میں زیادہ قریب لا سکتی ہے۔

رہنماؤں نے جنوبی ایشیا اور وسیع مسلم دنیا کی علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ سارک سمیت علاقائی فورمز میں تعاون بحال کرنے کا حامی ہے۔ جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم طویل عرصے سے سیاسی اختلافات کے باعث غیر فعال ہے، اس لیے دوطرفہ روابط میں بہتری وسیع علاقائی تعاون کے لیے بھی اہم ہو سکتی ہے۔

فون کال میں کسی نئے تجارتی معاہدے کی مخصوص رقم یا حتمی ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اصل پیش رفت کا انحصار کسٹمز، بینکاری، براہ راست شپنگ، ویزا اور کاروباری قواعد سے متعلق عملی فیصلوں پر ہوگا۔ دونوں رہنماؤں کا رابطہ اس سیاسی رجحان کو جاری رکھتا ہے جس میں اسلام آباد اور ڈھاکا ماضی کے اختلافات کے باوجود موجودہ معاشی اور علاقائی مفادات پر تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔