اسلام آباد میں پاکستان نیشنل کلین ایئر کانفرنس 2026 کے دوران ماہرین اور حکام نے خبردار کیا ہے کہ فضائی آلودگی پاکستان میں سالانہ دو لاکھ سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہے اور اس کے معاشی اثرات ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے 6.5 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں۔ کانفرنس میں حکومت، اقوام متحدہ کے اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور صوبائی ماحولیاتی اداروں کے نمائندوں نے نگرانی، قانون نافذ کرنے اور صاف ٹیکنالوجی میں مسلسل سرمایہ کاری پر زور دیا۔

یونیسف کی پیشکش میں اس بحران کے بچوں پر اثرات کو نمایاں کیا گیا۔ پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2023 میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی 56 ہزار 725 اموات فضائی آلودگی سے منسوب کی گئیں، جبکہ اسی عمر کے بچوں میں صحت مند زندگی کے تقریباً 51 لاکھ سال ضائع ہونے کا تخمینہ دیا گیا۔ پیشکش میں اسٹیٹ آف گلوبل ایئر رپورٹ 2025 اور گلوبل برڈن آف ڈیزیز 2023 کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان کی پوری آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں سالانہ اوسط PM2.5 قومی معیار 15 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے زیادہ ہے۔

کانفرنس کو بتایا گیا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 7 کروڑ 66 لاکھ بچے ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں PM2.5 کی اوسط مقدار عالمی ادارہ صحت کے نسبتاً کم سخت عبوری ہدف 35 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے بھی زیادہ ہے۔ مقررین نے کہا کہ آلودگی کے اثرات صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، کام کی صلاحیت، گھریلو اخراجات اور مجموعی معاشی پیداوار پر بھی پڑتے ہیں۔

پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر محسنہ زبیر کے مطابق آٹھ شعبوں میں 90 پالیسی اقدامات پر مشتمل عمل درآمد منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ان شعبوں میں زراعت، جنگلات و زمین کا استعمال، توانائی، صنعت، ٹرانسپورٹ، شہری منصوبہ بندی اور ویسٹ مینجمنٹ شامل ہیں۔ صوبوں کو آلودگی کی بنیادی سطح متعین کرنے، صحت کے اثرات جانچنے اور اہداف مقرر کرنے کے لیے رہنما اصول بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

پنجاب نے بتایا کہ منصوبہ بند 25 مانیٹرنگ اسٹیشنوں میں سے 10 نصب ہو چکے ہیں اور باقی نومبر کے اختتام تک لگانے کا ہدف ہے۔ حکام کے مطابق صنعتی یونٹس کی ڈیجیٹل میپنگ، اخراج کنٹرول نظام اور فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف نگرانی بھی جاری ہے۔ کانفرنس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ مختلف اداروں کے الگ الگ منصوبے کافی نہیں ہوں گے اور مؤثر نتائج کے لیے مشترکہ ڈیٹا، واضح جوابدہی اور مستقل مالی وسائل ضروری ہیں۔