وفاقی حکومت نے نان پروہیبٹڈ بور اسلحہ لائسنس کے اجرا میں 90 فیصد سے زیادہ کمی کر دی ہے اور گزشتہ 13 ماہ کے دوران سخت شرائط کے تحت صرف 5,700 لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔ یہ معلومات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کے اجلاس میں وزارت داخلہ کی جانب سے فراہم کی گئیں۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کہ ماضی میں ایک سال کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ اسلحہ لائسنس جاری کیے جاتے تھے، تاہم اب درخواستوں کی جانچ اور اہلیت کے لیے ضابطے سخت کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق درخواست گزار کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ لازمی کیا گیا ہے تاکہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کو قانونی اسلحہ لائسنس حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسلحہ لائسنس کی سفارش کے عمل پر بھی حدود مقرر کی گئی ہیں۔ ایک رکن قومی اسمبلی کی سفارش درکار ہوتی ہے اور ہر قومی اسمبلی حلقے کے لیے ماہانہ سفارشات کی تعداد پانچ تک محدود رکھی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق اس نظام کا مقصد لائسنسوں کے بڑے پیمانے پر اجرا کو محدود کرنا اور جانچ کے عمل کو زیادہ منظم بنانا ہے۔

اجلاس میں ملک کی داخلی سلامتی کی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد میں تقریباً 60 فیصد افغان شہری ہیں۔ یہ اعداد و شمار وزیر مملکت کی جانب سے کمیٹی میں پیش کردہ حکومتی مؤقف ہیں؛ خبر میں ان کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے انہیں سرکاری دعوے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

اسلحہ لائسنس کے اجرا میں نمایاں کمی حکومت کی جانب سے قانونی ہتھیاروں تک رسائی کو سخت نگرانی کے تحت لانے کی پالیسی کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم اس پالیسی کی مؤثریت کا انحصار درخواستوں کی شفاف جانچ، غیر قانونی اسلحے کے خلاف نفاذ، ریکارڈ کی درستگی اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے پر ہوگا۔ سینیٹ کمیٹی کی نگرانی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے یہ واضح ہے کہ وفاقی سطح پر نئے لائسنسوں کے اجرا کی رفتار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہت کم کر دی گئی ہے۔