اسلام آباد: وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے مین لائن-1 کے کراچی–روہڑی حصے کے لیے مرکزی سرمایہ کاری قرض کی منظوری کا عمل تیز کرنے کی درخواست کی ہے۔ 3 ستمبر 2026 کو وزارتِ ریلوے میں اے ڈی بی کے نائب صدر سے ملاقات کے دوران ایم ایل-1 کی اپ گریڈیشن و فنانسنگ، پاکستان ریلوے کی جاری اصلاحات اور مستقبل کی ترقیاتی حکمتِ عملی پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ یہ ملاقات مالی تعاون کی درخواست اور مذاکرات کا مرحلہ ہے؛ اے ڈی بی کی جانب سے حتمی قرض منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔
وزیر ریلوے کے مطابق کراچی–روہڑی ایم ایل-1 اپ گریڈ منصوبے کی تخمینی لاگت تقریباً 2.5 ارب ڈالر ہے اور حکومت اسے تین سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران اس حصے کا سنگِ بنیاد رکھنے کا ارادہ ہے۔ لاگت، سنگِ بنیاد اور تکمیل کی مدت سرکاری منصوبہ بندی کے اعداد و اہداف ہیں، جن کا عملی حصول قرض کی منظوری، خریداری، ٹھیکوں، زمین اور تعمیراتی پیش رفت سے مشروط ہوگا۔
وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق 183 کلومیٹر طویل نواب شاہ–روہڑی سیکشن کو ترجیحی بنیاد پر لینے کی بات کی گئی۔ یہ راستہ مرکزی ریلوے کوریڈور کا اہم حصہ ہے اور سندھ کے اندر مسافر و مال بردار ٹریفک کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وزارت چاہتی ہے کہ ترجیحی سیکشن پر کام کو بڑے کراچی–روہڑی پیکیج کے اندر تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔
پاکستان نے اے ڈی بی اور دوسرے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ روہڑی سے پشاور تک ایم ایل-1 کے باقی حصوں کی فنانسنگ پر تعاون جاری رکھنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔ تاہم سرکاری بیان میں ہر باقی سیکشن کے لیے رقم، قرض دہندہ، شرحِ سود، مدت یا حتمی مالی تقسیم جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے پوری کراچی–پشاور لائن کی مالی بندش کو مکمل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
حنیف عباسی نے کہا کہ اپ گریڈیشن سے کراچی اور لاہور کے درمیان سفر کا وقت تقریباً پانچ گھنٹے کم ہو سکتا ہے، جبکہ ٹرینوں کی رفتار، مسافر سہولتوں، حفاظت، آپریشنل کارکردگی اور مال برداری کی گنجائش میں بہتری متوقع ہے۔ یہ وزارت کے منصوبہ جاتی تخمینے ہیں؛ حقیقی وقت کی بچت اور استعداد تعمیر مکمل ہونے، پٹری، سگنلنگ، رولنگ اسٹاک اور آپریشنل نظام کی کارکردگی پر منحصر ہوگی۔
ملاقات میں پاکستان ریلوے کی مالی پائیداری، حکمرانی، آمدن اور روزمرہ آپریشن بہتر بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن، بعض خدمات کی آؤٹ سورسنگ اور ڈیجیٹلائزیشن پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر زور دیا، مگر کسی مخصوص نئی نجی کمپنی یا کنسیشن معاہدے کی حتمی منظوری اس اجلاس میں اعلان نہیں کی گئی۔
وزارت نے مسافر خدمات کے ساتھ مال بردار ٹرینوں کی تعداد اور رفتار بڑھانے کو اصلاحی پروگرام کا اہم حصہ قرار دیا۔ حکومتی مؤقف ہے کہ طویل فاصلے پر ریلوے فریٹ سڑک کے مقابل نسبتاً معاشی اور محفوظ ہو سکتا ہے، اور ایم ایل-1 کی بہتر پٹری و سگنلنگ سے مجموعی فریٹ صلاحیت بڑھے گی۔ اس فائدے کی مقدار مستقبل کے آپریشن، کرایوں، ٹرمینل سہولتوں اور نجی کارگو کی طلب سے طے ہوگی۔
اے ڈی بی کے نائب صدر نے پاکستان ریلوے میں جاری اصلاحات کو سراہا اور ادارے کی جدیدکاری و پائیدار ترقی کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ عمومی تعاون کا بیان ہے، مخصوص 2.5 ارب ڈالر قرض کی بورڈ منظوری، دستخط یا رقم کے اجرا کا متبادل نہیں۔ آئندہ قابلِ تصدیق سنگِ میل اے ڈی بی کی رسمی پروسیسنگ، قرض کی شرائط، حکومتی منظوری، خریداری کا آغاز اور زمینی تعمیر ہوں گے۔




