اسلام آباد: پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے انٹربینک کنسورشیم (SCO-IBC) کی 2026-27 کے لیے چیئرمین شپ سنبھال لی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق حبیب بینک لمیٹڈ کے چیئرمین سلطان علی الانہ اس مدت کے دوران کنسورشیم کی سربراہی کریں گے۔ یہ ذمہ داری ایسے وقت پاکستان کے پاس آئی ہے جب ملک اسی عرصے میں وسیع تر شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت بھی کر رہا ہے۔
وزارت خزانہ نے اس پیش رفت کو علاقائی تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی رابطوں اور اقتصادی تعاون میں پاکستان کے کردار کے لیے اہم قرار دیا۔ سرکاری بیان کے مطابق حکومت ایس سی او رکن ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے، سرحد پار تجارت اور سرمایہ کاری میں سہولت پیدا کرنے اور علاقائی انضمام کو آگے بڑھانے کے لیے کنسورشیم کے پلیٹ فارم سے کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ایس سی او انٹربینک کنسورشیم رکن ممالک کے مالیاتی اداروں کے درمیان تعاون کا پلیٹ فارم ہے۔ اس کا مقصد بینکاری اور مالیاتی شعبے کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں، تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے رابطے بڑھانا اور کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان کی سربراہی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مخصوص منصوبے کے لیے فوری طور پر نئی مالی اعانت منظور ہوگئی ہے؛ ایسے فیصلے متعلقہ اداروں اور رکن ممالک کے الگ طریقۂ کار کے تحت ہوں گے۔
وزارت خزانہ نے سلطان علی الانہ کو ذمہ داری سنبھالنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی معاشی روابط اور مشترکہ خوشحالی کے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی مدتِ صدارت استعمال کرے گا۔ مالیاتی تعاون کے اس فورم کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ ایس سی او میں چین، روس، وسطی ایشیائی ریاستوں، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں، جن کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے حجم میں اضافے کے لیے بینکاری رابطے بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے ستمبر میں ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھالی تھی اور اگلا ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ اجلاس بھی پاکستان میں منعقد ہونا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کا کردار مبصر کی حیثیت سے شروع ہو کر 2017 میں مکمل رکنیت اور اب زیادہ فعال شمولیت تک پہنچا ہے۔
انٹربینک کنسورشیم کی سربراہی پاکستان کو مالیاتی اداروں کے درمیان ترجیحات طے کرنے اور مشترکہ مباحث کی میزبانی کا موقع دے گی، تاہم اس مدت کے عملی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کون سے قابلِ عمل منصوبے، مالیاتی سہولتیں یا سرحد پار سرمایہ کاری کے اقدامات رکن اداروں کی منظوری حاصل کرتے ہیں۔ موجودہ سرکاری اعلان میں کسی مخصوص فنڈ، قرض یا سرمایہ کاری پیکیج کی رقم بیان نہیں کی گئی۔
