اسلام آباد: پاکستان نے بنگلہ دیش کو عالمی توانائی بحران سے نمٹنے، ایندھن کی فراہمی محفوظ بنانے اور سپلائی میں رکاوٹوں کے معاشی اثرات محدود کرنے سے متعلق اپنے تجربات شیئر کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیشکش وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور بنگلہ دیش کے مشیر خزانہ راشد المحمود تیتومیر کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

سرکاری پریس ریلیز کے مطابق دونوں جانب سے اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے دوران ایندھن کی مسلسل دستیابی کیسے برقرار رکھی جائے اور درآمدی لاگت و سپلائی کے خطرات سے ملکی معیشتوں کو کس حد تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں درآمدی توانائی پر انحصار رکھتے ہیں، اس لیے عالمی قیمتوں، بحری راستوں اور علاقائی کشیدگی میں تبدیلی ان کی توانائی سلامتی کے لیے اہم مسئلہ ہے۔

علی پرویز ملک نے پاکستانی حکومت کی جانب سے ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے بنگلہ دیشی وفد کو آگاہ کیا۔ انہوں نے ہدفی فیول سبسڈی سمیت ان حکومتی اقدامات کا ذکر کیا جن کا مقصد عالمی بحران کے اثرات کے دوران صارفین کو کچھ ریلیف فراہم کرنا ہے۔ پاکستان نے حالیہ توانائی دباؤ کے دوران ایل این جی اور دیگر ایندھن کی درآمد کے متبادل انتظامات اور سپلائی چین کو محفوظ بنانے پر بھی توجہ دی ہے۔

بنگلہ دیشی مشیر خزانہ راشد المحمود تیتومیر نے اپنے ملک کی جانب سے ایندھن کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران نے توانائی سلامتی کو پالیسی سازی کے مرکزی موضوعات میں شامل کر دیا ہے اور مستقبل کے جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے توانائی ذرائع اور سپلائی روٹس میں تنوع ضروری ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق بنگلہ دیشی عہدیدار نے ایران سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور آبنائے ہرمز کے راستے قطر سے ایل این جی کارگو محفوظ بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا۔ یہ سرکاری بیان میں پیش کیا گیا سفارتی مؤقف ہے؛ ملاقات میں کسی نئے باقاعدہ توانائی معاہدے، مخصوص تجارتی حجم یا مشترکہ منصوبے پر دستخط کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پاکستانی وزیر پٹرولیم نے موجودہ صورتحال کو غیر معمولی توانائی بحران قرار دیتے ہوئے تیاری، درآمدی ذرائع میں تنوع اور علاقائی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقوں نے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطہ اور تجربات کا تبادلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس مرحلے پر تعاون بنیادی طور پر پالیسی تجربات اور مشاورت کے دائرے میں ہے؛ کسی مخصوص ایندھن کی فراہمی یا مالی سہولت کا حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔