نیویارک: عالمی منڈی میں منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد کمی ہوئی اور برینٹ کئی ہفتوں کی کم ترین سطح کی طرف بڑھا، کیونکہ سرمایہ کار ایران اور یوکرین سے متعلق امن مذاکرات کے امکانات کو نئی رسدی رکاوٹوں کے خدشات کے مقابل رکھ کر دیکھ رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق برینٹ فیوچرز 1.63 ڈالر، یا تقریباً دو فیصد، کم ہو کر 103.14 ڈالر فی بیرل تک آئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 67 سینٹ کم ہو کر 95.79 ڈالر فی بیرل رہا۔

مارکیٹ کی توجہ ایران اور امریکا کے درمیان قطر کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششوں پر مرکوز ہے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ دونوں فریق کسی معاہدے سے اب بھی خاصے دور ہیں، جبکہ قطر نے اختلافات کم کرنے اور دوبارہ بڑے فوجی تصادم سے بچنے کے لیے کوششیں تیز کی ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے مطابق امریکا اور ایران ثالثی کے عمل سے وابستہ ہیں اور پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس پیش رفت کے باوجود تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ کشیدگی کے خطرات ختم نہیں ہوئے۔

اسی دوران امریکا نے ایران کے جزیرہ قشم پر محدود حملے کیے۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی کا ہدف ایسے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تھے جنہیں امریکی اثاثوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا تھا۔ حکام نے اسے دفاعی اور محدود کارروائی قرار دیا، نہ کہ بڑے پیمانے کی جنگی مہم کی بحالی۔ یہ واقعہ تیل کی منڈی میں رسد سے متعلق خطرے کو برقرار رکھتا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث۔

دوسری طرف روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان 10 اور 11 نومبر کو ابوظہبی میں سہ فریقی امن مذاکرات طے ہونے کی اطلاعات نے بھی قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔ روس دنیا کے بڑے خام تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور یوکرین جنگ کے خاتمے کی کسی قابل عمل ڈیل سے مستقبل میں روسی تیل کی عالمی منڈی تک رسائی بڑھنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ تاہم مذاکرات سے قبل روسی حملوں نے یوکرین کے توانائی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا جبکہ یوکرینی ڈرون حملے میں روس کے یاروسلاول شہر کی ایک بڑی ریفائنری میں آگ لگنے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔

سعودی آرامکو بھی آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی خام تیل پائپ لائن کی صلاحیت بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ ماضی میں عالمی تیل سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے اہم راستہ رہی ہے، اس لیے خطے میں جنگ اور بحری رکاوٹوں نے خلیجی ممالک کو متبادل برآمدی راستوں پر سرمایہ کاری بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔

امریکی تیل ذخائر کے اعداد و شمار بھی مارکیٹ کے اگلے رخ کے لیے اہم ہوں گے۔ تجزیہ کاروں نے 30 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل ذخائر میں تقریباً 20 لاکھ بیرل اضافے کا اندازہ لگایا ہے۔ اگر یہ تخمینہ درست رہا تو مسلسل چار ہفتوں کی کمی کے بعد ذخائر میں پہلا ہفتہ وار اضافہ ہوگا۔ مجموعی طور پر قیمتوں میں موجودہ کمی سفارتی پیش رفت کی امید کی عکاسی کرتی ہے، مگر ایران اور یوکرین دونوں محاذوں پر جاری فوجی کارروائیوں کے باعث تیل کی منڈی بدستور غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے خطرے سے دوچار ہے۔