اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ کسانوں، چھوٹے و درمیانے کاروباری اداروں اور وزیراعظم اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم کے صارفین کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی دکھانے والے بینکوں کو رعایت نہ دی جائے۔ یہ ہدایت ترجیحی شعبوں کے لیے قرضوں کی فراہمی سے متعلق جائزہ اجلاس کے دوران دی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ایسے شعبوں میں مالی رسائی بڑھانا ہے جو روزگار، نجی سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمی پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زراعت، ہاؤسنگ اور ایس ایم ای شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بینکاری شعبے کو نجی شعبے کی ترقی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
اجلاس میں وزیراعظم نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ سے متعلق فنانسنگ میں درپیش رکاوٹوں کو حل کرنے کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ جامع ایکشن پلان تیار کیا جائے۔ اسٹیٹ بینک اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو چھوٹے و درمیانے کاروبار اور برآمد کنندگان کے ٹیکس سے متعلق مسائل مشترکہ طور پر حل کرنے اور آسان قرضوں کے لیے رسک کوریج حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک ترجیحی شعبوں میں قرضوں کا حجم بڑھانے کے لیے تین بنیادی پہلوؤں پر کام کر رہا ہے: ضابطہ جاتی نظام میں بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان خطرات اور اخراجات کی شراکت، اور ڈیجیٹل سہولیات کا فروغ۔ ان اقدامات کا مقصد قرض حاصل کرنے کے عمل میں رکاوٹیں کم کرنا اور ایسے کاروباروں اور گھرانوں تک مالی سہولت پہنچانا ہے جو روایتی بینکاری میں محدود رسائی رکھتے ہیں۔
وزیراعظم نے ایس ایم ای شعبے کو برآمدات اور روزگار بڑھانے کی صلاحیت رکھنے والا اہم شعبہ قرار دیا جبکہ زراعت کو ملکی معیشت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات بڑھانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنا گھر اسکیم سے تعمیرات اور اس سے منسلک صنعتوں میں بھی سرگرمی پیدا ہو سکتی ہے۔
اجلاس میں جاری پالیسی اقدامات اور بینکوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، تاہم رپورٹ میں کسی مخصوص بینک کے خلاف فوری جرمانے یا پابندی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم کی ہدایت پالیسی اور نگرانی کی سطح پر ہے، اور اس کے عملی اطلاق کی تفصیلات اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ اور متعلقہ اداروں کے آئندہ اقدامات سے واضح ہوں گی۔
