پاکستان میں صارف قیمت اشاریے، سی پی آئی، پر مبنی سالانہ مہنگائی اگست 2026 میں 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق قیمتوں کا دباؤ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں دو ہندسوں میں رہا، جبکہ عالمی توانائی قیمتوں اور مقامی ایندھن نرخوں میں حالیہ اضافے نے آئندہ مہینوں کے مہنگائی منظرنامے سے متعلق تشویش بڑھائی ہے۔
سی پی آئی گھرانوں کی جانب سے استعمال ہونے والی اشیا اور خدمات کی ایک وسیع ٹوکری کی قیمتوں میں تبدیلی ناپتا ہے۔ اس میں خوراک، رہائش، بجلی و گیس، ٹرانسپورٹ، کپڑے، صحت، تعلیم اور دیگر اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ سالانہ شرح کا مطلب اگست 2026 کی اوسط قیمتوں کا اگست 2025 سے موازنہ ہے اور یہ ہر فرد یا ہر چیز کی قیمت میں یکساں 11.1 فیصد اضافے کی نشاندہی نہیں کرتی۔
حالیہ ہفتوں میں مشرق وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز سے تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی خام تیل کی قیمتیں بڑھائی ہیں۔ پاکستان میں حکومت نے روزانہ بنیادوں پر پیٹرولیم قیمتوں کی نظرثانی شروع کی ہے اور ستمبر کے ابتدائی دو دنوں میں ایندھن نرخوں میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ مہنگا ایندھن ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت کے ذریعے دیگر اشیا کی قیمتوں تک منتقل ہو سکتا ہے۔
مہنگائی کی رفتار اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے لیے بھی اہم ہے۔ مرکزی بینک شرح سود طے کرتے وقت بنیادی مہنگائی، توانائی و خوراک قیمتوں، شرح مبادلہ، مالیاتی پالیسی اور معاشی نمو سمیت متعدد اشاریوں کا جائزہ لیتا ہے۔ بلند مہنگائی شرح سود میں تیز کمی کی گنجائش محدود کر سکتی ہے، اگرچہ حتمی فیصلہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مجموعی معاشی جائزے پر منحصر ہوتا ہے۔
حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ معاشی نمو کی بحالی کے ساتھ قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھا جائے۔ عالمی تیل کی موجودہ غیر یقینی صورتحال پاکستان کے درآمدی بل اور صارف قیمتوں دونوں کے لیے خطرہ ہے۔ اگست کے اعداد و شمار ایک مکمل مہینے کی تصویر فراہم کرتے ہیں، جبکہ ستمبر میں ہونے والی حالیہ ایندھن تبدیلیوں کا زیادہ واضح اثر آئندہ سی پی آئی رپورٹس میں سامنے آئے گا۔




