کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 9 کروڑ 80 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا۔ جولائی 2026 میں خسارہ 44 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا، جبکہ گزشتہ سال اگست میں یہ 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ماہانہ بنیاد پر خسارے میں واضح کمی ہوئی، تاہم درآمدی بل میں سالانہ اضافہ بیرونی کھاتے پر دباؤ کا اہم عنصر رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق اگست میں اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات 3.33 ارب ڈالر رہیں، جو ایک سال پہلے کے 3.17 ارب ڈالر سے 5 فیصد سے زیادہ ہیں۔ اسی مدت میں مجموعی درآمدات 6.64 ارب ڈالر تک پہنچیں، جو اگست 2025 کے 6.15 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔ درآمدات کی نسبت برآمدات میں کم رفتار سے اضافے نے تجارتی توازن پر دباؤ برقرار رکھا۔
کارکنوں کی ترسیلات زر نے بیرونی ادائیگیوں کے کھاتے کو اہم سہارا دیا۔ اگست 2026 میں ترسیلات زر 3.66 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ 3.14 ارب ڈالر تھیں، یعنی سالانہ بنیاد پر تقریباً 17 فیصد اضافہ ہوا۔ مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 54 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 85 کروڑ 30 لاکھ ڈالر خسارے سے 36 فیصد کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر، مخصوص ریزرو تقاضوں کو نکال کر، 17.28 ارب ڈالر تک پہنچے اور سالانہ بنیاد پر 19 فیصد اضافہ دکھایا۔ حقیقی مؤثر شرح مبادلہ کا اشاریہ بھی جولائی کے 107.89 سے معمولی بڑھ کر اگست میں 107.92 ہوگیا۔ کرنٹ اکاؤنٹ کے یہ اعداد ملک کے بیرونی شعبے کی موجودہ کیفیت کی تصویر پیش کرتے ہیں، جس میں ترسیلات زر اور ذخائر میں بہتری کے ساتھ درآمدی لاگت کا دباؤ بیک وقت موجود ہے۔
