اسلام آباد: بین الاقوامی توانائی کمپنی وی ٹی ٹی آئی اور امریکی کمپنی ہنی ویل یو او پی کے نمائندوں نے پاکستان کے توانائی شعبے میں مختلف منصوبوں اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ پیش رفت 16 ستمبر کو وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک کے ساتھ الگ الگ ملاقاتوں کے دوران سامنے آئی۔

سرکاری اطلاعات کے مطابق وی ٹی ٹی آئی کے نمائندوں نے پاکستان میں توانائی ذخیرہ کرنے کی سہولیات، بانڈڈ ویئرہاؤسنگ اور مائع پٹرولیم گیس یعنی ایل پی جی کے اسٹوریج ٹرمینلز میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بات کی۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری توانائی کی درآمد، ذخیرہ کاری اور رسد کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق ہے، تاہم جاری کردہ بیان میں کسی حتمی معاہدے، سرمایہ کاری کی مالیت یا منصوبوں کے آغاز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ہنی ویل یو او پی نے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کی موجودگی بڑھانے اور مقامی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ ریفائنری اپ گریڈیشن کا مقصد مقامی ریفائننگ صلاحیت اور کارکردگی میں بہتری لانا ہے، جسے حکومت توانائی شعبے کی پالیسی میں اہم قرار دے رہی ہے۔

وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے کمپنیوں کی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صاف اور نسبتاً قابلِ استطاعت توانائی کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے شفاف اور منصفانہ قیمتوں کے نظام کی اہمیت بیان کی اور کہا کہ حکومت ریفائنری اپ گریڈز کے ذریعے اندرونِ ملک ریفائننگ کی صلاحیت اور استعداد بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

اس پیش رفت کو فی الحال سرمایہ کاری میں اظہارِ دلچسپی کے مرحلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ دستیاب سرکاری بیان میں کسی پابند معاہدے، مالیاتی بندوبست یا تعمیراتی کام کی منظوری کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے مجوزہ منصوبوں کی حتمی شکل، سرمایہ کاری کا حجم اور عمل درآمد کا شیڈول آئندہ مذاکرات اور متعلقہ منظوریوں سے مشروط ہوگا۔

پاکستان حالیہ عرصے میں توانائی کی رسد، درآمدی لاگت، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور ریفائنریوں کی جدید کاری سے متعلق دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں حکومت غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی تعاون کو مقامی توانائی بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے جوڑ رہی ہے، تاہم ہر منصوبے کے عملی اثرات کا تعین حتمی تجارتی اور ضابطہ جاتی فیصلوں کے بعد ہی ہو سکے گا۔