پاکستان کے 1.75 ارب یوان، تقریباً 258 ملین ڈالر، مالیت کے سسٹین ایبل پانڈا بانڈ کو 2026 کے اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈز میں پائنیئر سسٹین ایبل سوورن پانڈا بانڈ ایشوئر ایوارڈ دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان چین کی کیپٹل مارکیٹ میں ایک مرتبہ داخل ہو کر رکنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ مستقبل میں مزید اجرا کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق تین سالہ بانڈ 2.5 فیصد شرح پر جاری کیا گیا اور اسے پیشکش کے مقابلے میں پانچ گنا سے زیادہ طلب موصول ہوئی۔ ان کے مطابق اس اجرا سے پاکستان کو چین کی بڑی کیپٹل مارکیٹ اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ایک نئے حلقے تک رسائی ملی، بیرونی مالی وسائل میں تنوع آیا اور پاکستان و چین کے مالی تعلقات میں ایک نیا پہلو شامل ہوا۔

حکام کے مطابق اس لین دین میں حکومت پاکستان کے ساتھ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، چینی حکام، مالی مشیروں، انڈر رائٹرز اور دیگر مارکیٹ شراکت داروں نے کردار ادا کیا۔ بانڈ سے حاصل ہونے والی رقم کو ماحول دوست اور سماجی اہمیت کے منصوبوں میں لگانے کا منصوبہ ہے، جن میں پانی، توانائی اور صحت کے شعبے شامل ہیں۔ اس بنا پر بانڈ کو پاکستان کی روایتی قرض مارکیٹوں سے ہٹ کر پائیدار مالیات کے نئے ذرائع تک رسائی کی کوشش کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

محمد اورنگزیب نے ویڈیو پیغام میں کلائمیٹ بانڈز انیشی ایٹو، چین کی حکومت، اے آئی آئی بی، اے ڈی بی، سرمایہ کاروں اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ دنیا کی بڑی اور گہری کیپٹل مارکیٹوں میں شمار ہونے والی چینی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ رسائی پاکستان کے لیے سرمایہ کے نئے پول کھولتی ہے اور چین کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے مالی پہلو کو مضبوط کرتی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل کے مزید چینی مارکیٹ اجرا پاکستان کے بیرونی مالی ذرائع کو متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہوں گے۔ تاہم ہر آئندہ بانڈ کی مالیت، مدت، قیمت اور اجرا کا وقت مارکیٹ حالات اور حکومتی مالی ضروریات پر منحصر ہوگا اور موجودہ اعلان میں ان کی حتمی تفصیل نہیں دی گئی۔ عالمی ایوارڈ موجودہ لین دین کی ساخت اور پائیدار مالیاتی مقاصد کی شناخت ہے، جبکہ مستقبل کے اجرا کی کامیابی کا انحصار اس وقت کے مالی حالات، سرمایہ کاروں کی طلب اور پاکستان کی مجموعی معاشی صورت حال پر ہوگا۔