اسلام آباد: پاکستان میں صارف قیمتوں کے اشاریے سے ناپی جانے والی سالانہ مہنگائی اگست 2026 میں بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی، جو جولائی میں 9.2 فیصد اور اگست 2025 میں 3.1 فیصد تھی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس، PBS، کی یکم ستمبر کو جاری ماہانہ رپورٹ کے مطابق عمومی قیمتوں میں جولائی کے مقابلے میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا۔ ماہانہ شرح جولائی میں بھی 1.2 فیصد تھی، اس لیے اگست میں قیمتوں کی رفتار کم نہیں ہوئی۔
سرکاری اعداد میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا۔ شہری سالانہ مہنگائی جولائی کے 8.7 فیصد سے بڑھ کر 10.4 فیصد ہوئی، جبکہ دیہی شرح 9.9 فیصد سے بڑھ کر 12.2 فیصد تک پہنچ گئی۔ ماہانہ بنیاد پر شہری قیمتوں میں 0.9 فیصد اور دیہی قیمتوں میں 1.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے دیہی گھرانوں پر نسبتاً زیادہ دباؤ ظاہر ہوتا ہے۔
خوراک کی سالانہ مہنگائی شہری علاقوں میں 12.1 فیصد اور دیہی علاقوں میں 13.2 فیصد رہی۔ جولائی کے مقابلے میں شہری خوراک 1 فیصد اور دیہی خوراک 2.1 فیصد مہنگی ہوئی۔ غیر غذائی اشیا اور خدمات کی سالانہ شرح شہری علاقوں میں 9.4 فیصد اور دیہی علاقوں میں 11.3 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ یہ مجموعی اشاریے ہیں؛ کسی ایک گھرانے کا حقیقی خرچ اس کی آمدن، مقام اور استعمال کی اشیا کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
PBS کے شہری اشیا کے ماہانہ اعداد میں پیاز کی قیمت 45.87 فیصد، انڈوں کی 11.51 فیصد، آلو کی 6.82 فیصد، تازہ سبزیوں کی 5.50 فیصد اور گندم کی 5.25 فیصد بڑھنے کی اطلاع دی گئی۔ اسی دوران پھل، دال مونگ، مرغی، چینی اور ٹماٹر سمیت بعض اشیا کی قیمتیں ماہانہ بنیاد پر کم بھی ہوئیں۔ اس لیے مجموعی CPI میں اضافہ تمام مصنوعات کے ایک ہی سمت یا ایک ہی شرح سے بدلنے کا مطلب نہیں۔
غیر غذائی مدات میں موٹر ایندھن کی قیمتیں جولائی کے مقابلے میں 5.61 فیصد، بجلی 1.70 فیصد اور ٹرانسپورٹ خدمات 1.35 فیصد بڑھیں۔ سالانہ بنیاد پر ٹرانسپورٹ گروپ کی لاگت میں 20.17 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔ خوراک اور توانائی کی نسبتاً تیز تبدیلی نے عمومی اشاریے کو اوپر دھکیلا، مگر ہر جز کا وزن PBS کے مقررہ صارف باسکٹ کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔
قلیل مدتی قیمتوں کی پیمائش کرنے والے حساس قیمت اشاریے، SPI، کی سالانہ شرح اگست میں 9.5 فیصد رہی، جبکہ تھوک قیمت اشاریہ، WPI، 11.8 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کو نکال کر ناپی جانے والی بنیادی مہنگائی شہری علاقوں میں 8.8 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.5 فیصد رہی۔ بنیادی شرح اس بات کا ایک پیمانہ ہے کہ نسبتاً کم اتار چڑھاؤ والی اشیا اور خدمات میں قیمت کا دباؤ کہاں کھڑا ہے۔
مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، میں اوسط CPI مہنگائی 10.17 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 3.56 فیصد تھی۔ حکومت نے پورے مالی سال کے لیے 8.2 فیصد مہنگائی کا ہدف رکھا ہے، لیکن دو ماہ کا اوسط سالانہ ہدف سے بلند ہے۔ دو ماہ کی کارکردگی سے پورے سال کا حتمی نتیجہ طے نہیں ہوتا؛ عالمی توانائی قیمتیں، زرعی رسد، شرح مبادلہ، ٹیکس اور انتظامی قیمتیں آئندہ مہینوں کے اعداد پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
PBS کی رپورٹ قیمتوں میں فیصد تبدیلی بتاتی ہے، نہ کہ یہ کہ عمومی قیمتیں واپس کسی سابقہ کم سطح پر آ گئی ہیں۔ مہنگائی کی شرح کم ہونے کا مطلب قیمتوں میں اضافے کی رفتار سست ہونا ہوتا ہے، جبکہ اگست میں سالانہ شرح جولائی کے مقابلے میں دوبارہ تیز ہوئی۔ آنے والی ماہانہ ریلیز سے واضح ہو گا کہ یہ اضافہ عارضی غذائی و ایندھن اثر تھا یا وسیع اور مسلسل قیمت دباؤ میں تبدیل ہو رہا ہے۔




