اسلام آباد: پاکستان اور آسٹریلیا نے زرعی تحقیق، موسمیاتی مزاحمت، بائیو سکیورٹی، پانی کے انتظام اور زرعی تجارت میں تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ کی جنرل منیجر پارٹنرشپس ڈاکٹر سوزی نیومین اور پاکستان میں آسٹریلوی ہائی کمشنر سے ملاقات میں مشترکہ ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔
سرکاری بیان کے مطابق پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ACIAR کے ذریعے زرعی تحقیق میں تعاون 1984 سے جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے اس شراکت داری کو تحقیق، استعداد کار اور زرعی ترقی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تحقیق کو زیادہ عملی، قابل توسیع اور کسانوں کی ضروریات سے براہ راست منسلک حل میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات برداشت کرنے والی زراعت، پانی کے مؤثر استعمال، فصلوں کی بہتری، باغبانی اور زرعی ویلیو چینز کو خاص ترجیح دی گئی۔ پاکستان میں پانی کی دستیابی، درجہ حرارت میں تبدیلی، شدید موسمی واقعات اور پیداوار کی لاگت زرعی شعبے کے لیے اہم چیلنج ہیں، اس لیے تحقیق کے نتائج کا کھیت کی سطح تک پہنچنا پالیسی سازوں کے لیے بنیادی مسئلہ ہے۔
بائیو سکیورٹی میں فصلوں، جانوروں اور زرعی پیداوار کو بیماریوں، کیڑوں اور سرحد پار حیاتیاتی خطرات سے محفوظ رکھنے کے نظام شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان اس شعبے میں تکنیکی تعاون تحقیق کے ساتھ تجارت کے لیے بھی اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ زرعی برآمدات کو درآمد کنندہ ممالک کے صحت اور معیار کے ضابطوں پر پورا اترنا پڑتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مشترکہ تحقیق صرف علمی نتائج تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ایسے طریقوں، اقسام اور نظاموں میں ڈھلنی چاہیے جنہیں کسان بڑے پیمانے پر اپنا سکیں۔ اس مقصد کے لیے تحقیقاتی اداروں، حکومتی محکموں، توسیعی خدمات اور نجی شعبے کے درمیان رابطہ اہم ہوگا۔
ملاقات میں تعاون بڑھانے کی سیاسی اور ادارہ جاتی خواہش ظاہر کی گئی ہے، تاہم جاری سرکاری بیان میں کسی نئے مخصوص مالی پیکج یا ہر منصوبے کی الگ ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا۔ آئندہ تعاون کی عملی پیمائش نئے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، کسانوں تک ٹیکنالوجی کی منتقلی، پانی کی بچت، پیداوار میں بہتری اور زرعی تجارت کے قابل پیمائش نتائج سے ہوگی۔




