پاکستان اور آسٹریلیا نے خوراک کے تحفظ، موسمیاتی لچک، پانی کے انتظام اور فصلوں کی بہتری کے لیے نئے مشترکہ زرعی تحقیقی منصوبوں کی نشاندہی پر اتفاق کیا ہے۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے اسلام آباد میں آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ، ACIAR، کی جنرل منیجر پارٹنرشپس ڈاکٹر سوزی نیومن سے ملاقات کی۔
وزیر نے زور دیا کہ تحقیق کو لیبارٹری یا رپورٹ تک محدود رکھنے کے بجائے ایسے عملی اور قابل توسیع حل میں تبدیل کیا جائے جو کسان استعمال کر سکیں۔ پاکستان کی زراعت کو پانی کی کمی، بڑھتے درجہ حرارت، سیلاب، خشک سالی اور فصلوں کی بیماریوں جیسے موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے۔
آسٹریلیا خشک آب و ہوا میں زراعت، پانی کی کارکردگی اور زرعی تحقیق کا وسیع تجربہ رکھتا ہے۔ ACIAR کئی دہائیوں سے پاکستان میں فصل، لائیو اسٹاک، پانی اور قدرتی وسائل کے تحقیقی منصوبوں میں شراکت کرتا رہا ہے۔ نئے پروگرام اسی شراکت داری کو موجودہ موسمیاتی اور غذائی ضروریات کے مطابق آگے بڑھا سکتے ہیں۔
دونوں جانب نے demand-driven اور outcome-oriented تحقیق پر اتفاق کیا، یعنی منصوبے کسانوں اور زرعی نظام کی واضح ضرورت سے شروع ہوں اور ان کے قابل پیمائش نتائج ہوں۔ تحقیق کے نتائج کو زرعی توسیعی خدمات اور مقامی نجی شعبے تک پہنچانا بھی ضروری ہوگا تاکہ نئی ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر اپنائی جا سکے۔
ملاقات میں کسی مخصوص نئے منصوبے کی مالی رقم یا حتمی ٹائم لائن جاری نہیں کی گئی۔ اگلا مرحلہ ترجیحی تحقیق کی شناخت اور مشترکہ پروگرام ڈیزائن ہوگا۔ پاکستان کے لیے اس تعاون کی اصل قدر اس وقت ہوگی جب نئی تحقیق پانی کی بچت، فصل کی پیداوار، بیماریوں کے خلاف مزاحمت اور کسانوں کی موسمیاتی خطرات برداشت کرنے کی صلاحیت میں عملی بہتری لائے۔




