کراچی: پاکستان کی آٹو پارٹس صنعت سے وابستہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مکمل تیار شدہ درآمدی گاڑیوں، یعنی سی بی یو، پر کسٹمز ڈیوٹی میں نمایاں کمی مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں اور پرزہ ساز کمپنیوں کی کاروباری گنجائش کو متاثر کر سکتی ہے۔ بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں صنعت کے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹیرف پالیسی میں مقامی مینوفیکچرنگ اور وینڈرز کے لیے مناسب حفاظتی فرق برقرار رکھا جائے۔
آٹو ماہر عامر اللہ والا کے مطابق پاکستان کا آٹو سیکٹر خام مال، ایک ہزار دو سو سے زیادہ پرزہ ساز وینڈرز اور سو سے زیادہ گاڑی اسمبلرز پر مشتمل باہم مربوط نظام ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بجلی و گیس، شرح سود، ٹیکس اور کم پیداواری حجم جیسے مقامی اخراجات کے باعث مختلف حصوں کو ٹیرف کے ذریعے مناسب تحفظ درکار ہے۔ یہ صنعت کا پالیسی مؤقف ہے، حکومت کی جانب سے اس کے اثرات کی حتمی سرکاری تشخیص نہیں۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز نے تجویز دی ہے کہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد پر کم از کم 50 فیصد اور مقامی طور پر تیار ہونے والے پرزوں کے مقابل درآمدات پر 40 فیصد تک حفاظتی ٹیرف برقرار رکھا جائے۔ صنعت کو خدشہ ہے کہ قومی ٹیرف پالیسی میں مجوزہ کم چوٹی کی شرح سے درآمدی گاڑیوں کی قیمت نسبتاً مسابقتی ہو سکتی ہے اور مقامی اسمبلی و پرزہ سازی کی طلب متاثر ہوگی۔
اللہ والا نے کہا کہ 2016 سے 2026 تک کی پالیسیوں نے اسمبلنگ پلانٹس کی تعداد بڑھانے میں مدد دی، لیکن لوکلائزیشن کی رفتار برانڈز کے درمیان مختلف رہی۔ ان کے مطابق روایتی جاپانی اسمبلرز میں مقامی قدر کا حصہ تقریباً 65 فیصد، کوریائی برانڈز میں 25 فیصد اور بعض چینی برانڈز میں 10 فیصد سے کم رہا۔ یہ اعداد صنعت کے ماہر کی فراہم کردہ تشخیص ہیں اور ہر ماڈل یا کمپنی پر یکساں لاگو نہیں سمجھے جا سکتے۔
رپورٹ میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ 850 سی سی سے کم گاڑیوں کے شعبے میں مکمل درآمد شدہ اور سی کے ڈی گاڑیوں کے درمیان ٹیرف فرق کم ہونے سے مقامی اسمبلی کی معاشی ترغیب متاثر ہو سکتی ہے۔ صنعت کے نمائندوں نے خام مال پر کسٹمز اور اضافی کسٹمز ڈیوٹی برقرار رہنے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ اس سے مقامی پرزہ سازوں کی برآمدی مسابقت کم ہوتی ہے۔
آٹو پارٹس صنعت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان سے سالانہ 20 کروڑ ڈالر سے زیادہ کے پرزے برآمد ہوتے ہیں اور اس میں نمایاں اضافے کی گنجائش ہے، لیکن سکیورٹی اخراجات، غیر ملکی خریداروں کے دوروں میں مشکلات اور دیگر ساختی رکاوٹیں توسیع محدود کرتی ہیں۔ یہ صنعت کے تخمینے اور پالیسی دلائل ہیں، اس لیے مستقبل کی برآمدی صلاحیت کو یقینی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
موجودہ بحث کا بنیادی سوال صارفین کے لیے سستی درآمدات اور مقامی صنعتی تحفظ کے درمیان توازن ہے۔ کم درآمدی ڈیوٹی مسابقت اور صارفین کے انتخاب کو بڑھا سکتی ہے، جبکہ مقامی صنعت کا مؤقف ہے کہ بہت کم ٹیرف فرق سرمایہ کاری، روزگار، ٹیکنالوجی منتقلی اور پرزہ سازی کی مقامی صلاحیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ حتمی اثرات کا تعین اصل ٹیرف نفاذ، گاڑیوں کی قیمتوں، فروخت، مقامی قدر میں اضافے اور سرمایہ کاری کے اعداد سے ہوگا۔




