اسلام آباد: پاکستان اور آذربائیجان نے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کے اختتام پر دوطرفہ اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے ایک پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں۔ اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، مواصلات اور دیگر شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا اور دونوں ملکوں نے ادارہ جاتی روابط کو مزید فعال بنانے پر اتفاق کیا۔

دستیاب رپورٹ کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کی، جبکہ آذربائیجان کی جانب سے متعلقہ اعلیٰ سطحی نمائندگی موجود تھی۔ مشترکہ کمیشن دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی معاملات کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کا فورم ہے، جہاں مختلف وزارتیں اور ادارے مخصوص شعبوں میں تعاون کے نکات طے کرتے ہیں۔

پروٹوکول میں تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ توانائی، صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ اور رابطہ کاری جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی سمت متعین کی گئی۔ پاکستان اور آذربائیجان کے سیاسی تعلقات قریبی رہے ہیں، تاہم دونوں حکومتیں اقتصادی روابط کو موجودہ سیاسی تعلقات کے تناسب سے زیادہ وسیع کرنے کی خواہش ظاہر کرتی رہی ہیں۔ اسی لیے مشترکہ کمیشن کا حالیہ اجلاس عملی اقتصادی منصوبوں کی نشاندہی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

دستخط شدہ پروٹوکول کو فوری تجارتی حجم یا سرمایہ کاری کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس نوعیت کے مشترکہ کمیشن کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ وزارتوں، کاروباری اداروں اور ریگولیٹری حکام کے درمیان بعد کی کارروائی ضروری ہوتی ہے۔ منصوبوں کی مالیت، مخصوص سرمایہ کاری اور حتمی تجارتی اہداف کے بارے میں وہی اعداد معتبر ہوں گے جو باضابطہ طور پر جاری کیے جائیں۔

دونوں ممالک کے لیے توانائی اور علاقائی رابطہ کاری خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ آذربائیجان توانائی برآمد کرنے والا ملک ہے جبکہ پاکستان توانائی کی فراہمی کو متنوع بنانے اور وسطی ایشیا و قفقاز کے ساتھ تجارت بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ مشترکہ اقتصادی کمیشن کے پروٹوکول کی کامیابی کا اصل پیمانہ آئندہ مہینوں میں طے ہونے والے قابل عمل منصوبے، کاروباری معاہدے اور دوطرفہ تجارت میں قابل پیمائش اضافہ ہوگا۔