کراچی: پاکستان نے مائع پٹرولیم گیس کی مقامی فراہمی مستحکم رکھنے کے لیے سمندری راستے سے درآمدات بڑھانے کا عمل شروع کیا ہے، کیونکہ علاقائی حالات اور زمینی راستوں سے آنے والی سپلائی میں رکاوٹوں نے درآمدی نظام پر دباؤ بڑھایا ہے۔ 27 اکتوبر کی کاروباری رپورٹنگ کے مطابق ایل پی جی کے درآمد کنندگان اور متعلقہ شعبہ متبادل بحری سپلائی کو استعمال کر رہے ہیں تاکہ گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے مارکیٹ میں دستیابی متاثر نہ ہو۔

پاکستان میں ایل پی جی خاص طور پر ان علاقوں میں اہم ایندھن ہے جہاں پائپ لائن گیس کی رسائی محدود ہے۔ گھریلو صارفین اسے کھانا پکانے اور حرارت کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ ہوٹل، چھوٹے کاروبار اور بعض صنعتی یونٹس بھی اس پر انحصار کرتے ہیں۔ مقامی پیداوار ملکی طلب پوری کرنے کے لیے کافی نہ ہونے کی صورت میں درآمدی ایل پی جی قیمت اور دستیابی دونوں کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ماضی میں پاکستان کو زمینی سرحدوں کے ذریعے بھی ایل پی جی کی قابل ذکر مقدار ملتی رہی ہے۔ علاقائی کشیدگی، سرحدی انتظام اور نقل و حمل کی رکاوٹیں اس راستے سے سپلائی کو غیر یقینی بنا سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں بندرگاہوں کے ذریعے بحری درآمد ایک متبادل ذریعہ فراہم کرتی ہے، اگرچہ سمندری فریٹ، بندرگاہی اخراجات، جہاز کی دستیابی اور عالمی ایل پی جی قیمتیں اس طریقے کی مجموعی لاگت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

توانائی مارکیٹ کے لیے فوری ترجیح یہ ہے کہ سپلائی چین میں کسی ایک راستے پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہ رہے۔ بحری درآمدات بڑھنے سے مارکیٹ کو اضافی حجم مل سکتا ہے، لیکن صارفین کے لیے قیمت کا حتمی اثر درآمدی لاگت، روپے کی شرح مبادلہ، ٹیکس و لیویز، مقامی پیداوار اور تقسیم کے اخراجات کے مجموعے سے طے ہوگا۔ اس لیے بحری راستہ کھلنے یا استعمال بڑھنے کو خود بخود قیمتوں میں کمی کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔

متعلقہ اداروں کے لیے ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی قیمت وصولی اور سپلائی میں مصنوعی رکاوٹ کی نگرانی بھی اہم رہے گی، خصوصاً ایسے وقت جب صارفین قلت کے خدشات کے باعث اضافی خریداری شروع کر سکتے ہیں۔ موجودہ پیش رفت کا بنیادی مقصد دستیابی برقرار رکھنا اور درآمدی ذرائع کو متنوع بنانا ہے۔ آئندہ ہفتوں میں بحری کارگو کی آمد، زمینی راستوں کی صورتحال اور مقامی پیداوار کے اعدادوشمار سے واضح ہوگا کہ مارکیٹ پر دباؤ کس حد تک کم ہوتا ہے۔