کراچی: پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 میں روایتی کار ساز کمپنیوں کی فروخت 15,558 یونٹس رہی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ حجم گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہے، تاہم ایک ماہ پہلے کے مقابلے میں فروخت میں 21 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہانہ کمی کے پس منظر میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں، خصوصاً الیکٹرک اور دیگر متبادل پاور ٹرین ماڈلز سے بڑھتی مسابقت کو ایک اہم عامل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ پاکستانی آٹو مارکیٹ میں صارفین کے انتخاب تیزی سے بدل رہے ہیں اور روایتی انجن والی گاڑیوں کے ساتھ نئی توانائی کی گاڑیوں کی دستیابی بڑھنے سے مارکیٹ شیئر کے لیے مقابلہ زیادہ نمایاں ہو رہا ہے۔
سالانہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں روایتی کاروں کی مجموعی طلب بہتر سطح پر رہی، لیکن ماہانہ گراوٹ بتاتی ہے کہ مختصر مدت میں فروخت کی رفتار یکساں نہیں۔ گاڑیوں کی خریداری پر قیمتوں، فنانسنگ کی لاگت، شرح سود، درآمدی پالیسی، ٹیکس اور نئے ماڈلز کی دستیابی جیسے عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں، تاہم موجودہ اعداد و شمار سے کسی ایک وجہ کو مکمل طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پاما کے اعداد و شمار بنیادی طور پر اس کے رکن روایتی مینوفیکچررز کی رپورٹ شدہ فروخت کی عکاسی کرتے ہیں، اس لیے پوری پاکستانی گاڑی مارکیٹ، بالخصوص پاما سے باہر فروخت ہونے والے نئے توانائی ماڈلز، کی مکمل تصویر کے لیے دیگر مارکیٹ ڈیٹا بھی اہم رہتا ہے۔ اسی بنا پر 15,558 یونٹس کو پورے ملک میں ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی مجموعی فروخت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
آئندہ مہینوں کے اعداد و شمار سے واضح ہوگا کہ سالانہ بہتری برقرار رہتی ہے یا نئی توانائی گاڑیوں کی مسابقت روایتی کار ساز اداروں کی فروخت پر مزید دباؤ ڈالتی ہے۔ فی الحال اگست کا نمایاں رجحان سال بہ سال 11 فیصد اضافہ اور ماہ بہ ماہ 21 فیصد کمی ہے۔

