اسلام آباد: کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارہ جات نے وفاقی سرکاری ملکیتی اداروں کی مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کارکردگی کا جائزہ لیا ہے۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق منافع کمانے والے اداروں نے مجموعی طور پر تقریباً 423 ارب روپے کا منافع دکھایا جبکہ خسارے میں رہنے والے اداروں کے نقصانات تقریباً 343 ارب روپے رہے۔ اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں ہوا۔
یہ اعداد و شمار سرکاری اداروں کے پورٹ فولیو میں کارکردگی کے واضح فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔ کچھ ادارے قومی خزانے اور متعلقہ شعبوں کے لیے آمدن پیدا کر رہے ہیں، جبکہ دیگر اداروں کے مسلسل مالی نقصانات حکومتی وسائل، ضمانتوں اور مالیاتی خطرات پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ تاہم منافع اور خسارے کے مجموعی اعداد کو ایک دوسرے سے سادہ طور پر منہا کر کے تمام اداروں کی حتمی مالی حیثیت اخذ کرنا مناسب نہیں، کیونکہ اداروں کی نوعیت، سرمایہ، واجبات اور سرکاری معاونت مختلف ہوتی ہے۔
کابینہ کمیٹی نے ششماہی نتائج کے ساتھ حکمرانی، نگرانی اور کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سرکاری اداروں کی اصلاح پاکستان کے مالیاتی ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے، کیونکہ کمزور کارکردگی والے اداروں سے پیدا ہونے والے مالی خطرات بجٹ اور عوامی وسائل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد ایک مخصوص چھ ماہ کی مدت کی تصویر پیش کرتے ہیں اور انہیں پورے مالی سال کے حتمی نتائج نہیں سمجھا جا سکتا۔ سال کے باقی عرصے میں محصولات، اخراجات، مالی لاگت اور شعبہ جاتی حالات تبدیل ہونے سے مکمل سال کی کارکردگی مختلف ہو سکتی ہے۔
حکومت کے لیے اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ خسارے والے اداروں کے لیے اصلاح، تنظیم نو، بہتر انتظام یا دیگر پالیسی اقدامات کو کس رفتار سے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ کابینہ کمیٹی نے پہلی ششماہی کے نتائج کا باضابطہ جائزہ لیا اور سرکاری اداروں کی مالی و انتظامی کارکردگی مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
