کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو فروخت کا دباؤ برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2,541 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 168 ہزار پوائنٹس کی سطح سے نیچے آ گیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مارکیٹ کے رجحان پر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، خام تیل کی بلند قیمتوں اور توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات کا نمایاں اثر دیکھا گیا۔
علاقائی تنازع اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسی درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والی معیشت کے لیے متعدد خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ مہنگا خام تیل درآمدی بل، افراط زر اور کاروباری لاگت کے بارے میں سرمایہ کاروں کی توقعات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جغرافیائی سیاسی بے یقینی کے ادوار میں اسٹاک مارکیٹ میں رسک سے بچنے کا رجحان تیز ہو سکتا ہے۔
پیر کی گراوٹ گزشتہ ہفتے کے منفی رجحان کا تسلسل بتائی گئی۔ تاہم ایک روز کی مارکیٹ حرکت کو معیشت کی مکمل سمت یا مستقبل کی کارکردگی کا حتمی پیمانہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ حصص کی قیمتیں مقامی معاشی اعداد و شمار، شرح سود، کمپنیوں کے نتائج، عالمی منڈیوں اور سیاسی و سلامتی کی صورتحال سمیت کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہیں۔
موجودہ ماحول میں سرمایہ کار خاص طور پر توانائی کی عالمی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی سپلائی لائنوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر خام تیل کی قیمتوں اور ترسیل میں دباؤ برقرار رہتا ہے تو پاکستان کے بیرونی کھاتے اور مہنگائی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن ان اثرات کی شدت تنازع کے دورانیے اور عالمی قیمتوں کے عملی رجحان پر منحصر ہوگی۔
تصدیق شدہ مارکیٹ پیش رفت یہ ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس پیر کے سیشن میں 2,541 پوائنٹس نیچے آیا اور 168 ہزار کی نفسیاتی سطح سے نیچے چلا گیا۔ آنے والے سیشنز میں سرمایہ کار علاقائی صورتحال، تیل کی قیمتوں اور ملکی معاشی پالیسی کے اشاروں کی بنیاد پر اپنی پوزیشنیں ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
