اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر ستمبر 2026 میں بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ اور مرکزی بینک کے تازہ مانیٹری پالیسی بیان کے مطابق اس اضافے میں ستمبر کے دوران بین الاقوامی منڈی میں جاری کیے گئے تین ارب ڈالر کے یورو بانڈز اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرمبادلہ کی مسلسل خریداری نے اہم کردار ادا کیا۔ مرکزی بینک نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ ان رقوم کی آمد سے سرکاری ذخائر 21 ارب ڈالر سے اوپر گئے اور 21.4 ارب ڈالر تک پہنچے۔

پاکستان نے رواں ماہ مجموعی طور پر تین ارب ڈالر کے دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ جاری کیے۔ رپورٹ کے مطابق ایک حصہ 1.75 ارب ڈالر مالیت کا ساڑھے پانچ سالہ بانڈ تھا، جبکہ دوسرا 1.25 ارب ڈالر مالیت کا دس سالہ بانڈ تھا۔ اس اجرا کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے تقریباً چھ ارب ڈالر کی پیشکشیں موصول ہوئیں، تاہم حکومت نے تین ارب ڈالر کی مالیت قبول کی۔ ان رقوم کا مقصد بیرونی ادائیگیوں کے لیے دستیاب بفر کو مضبوط کرنا اور سرکاری زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ کرنا تھا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق 21.4 ارب ڈالر کی سطح اسٹیٹ بینک کے لیے ایک نئی بلند ترین سطح ہے اور دسمبر 2026 کے لیے مقرر 20.2 ارب ڈالر کے ہدف سے بھی زیادہ ہے۔ مرکزی بینک نے اس کے ساتھ یہ اندازہ بھی دیا ہے کہ منصوبہ بند بیرونی رقوم اور زرمبادلہ کی خریداری مالی سال 2026-27 کے دوران بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک توقع کر رہا ہے کہ جون 2027 تک ذخائر تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر کوریج کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔

مرکزی بینک نے تاہم واضح کیا ہے کہ بیرونی شعبے کا منظرنامہ مکمل طور پر خطرات سے پاک نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی اجناس اور توانائی کی بلند قیمتیں اور سپلائی میں رکاوٹیں درآمدی بل پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔ جولائی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ توقعات کے قریب رہا، جبکہ مضبوط ترسیلاتِ زر اور آئی سی ٹی برآمدات کو اہم سہارا قرار دیا گیا۔ اسی لیے 21.4 ارب ڈالر کے ذخائر کو بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت میں نمایاں بہتری سمجھا جا رہا ہے، لیکن اس بہتری کو برقرار رکھنے کے لیے برآمدات، ترسیلاتِ زر اور بیرونی مالی رقوم کے تسلسل کے ساتھ درآمدی دباؤ کا انتظام بھی ضروری ہوگا۔