اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں وزیراعظم کے فیول ریلیف پیکج کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد حالیہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد نسبتاً کم آمدنی والے اہل صارفین کو ہدفی مدد فراہم کرنا ہے۔ دی نیوز کی رپورٹ اور سرکاری اجلاس کی تفصیلات کے مطابق اسکیم کے نفاذ کے لیے 75 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔

منظور شدہ طریقہ کار کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے اہل غیر تجارتی صارفین کو فی ہفتہ 500 روپے کی معاونت دی جائے گی، جسے پانچ لیٹر ایندھن پر فی لیٹر 100 روپے کے حساب سے مرتب کیا گیا ہے۔ 800 سی سی تک انجن والی اہل چھوٹی کاروں کے لیے دس دن میں 1,000 روپے ریلیف رکھا گیا ہے، جبکہ ماہانہ بنیاد پر 30 لیٹر کی حد کا حوالہ دیا گیا ہے۔

اسکیم صرف غیر تجارتی صارفین تک محدود ہوگی اور ایک صارف یا مالک کو ایک گاڑی کے لیے فائدہ دیا جائے گا۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن فیول پاس سسٹم تیار اور چلا کر ڈیجیٹل طریقے سے اہل صارفین تک امداد پہنچانے کی ذمہ داری ادا کرے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نظام کا مقصد شفافیت، اہلیت کی جانچ اور ادائیگی کے عمل کو قابل نگرانی بنانا ہے۔

ای سی سی کے اسی اجلاس میں دیگر اقتصادی امور بھی زیر غور آئے، تاہم فیول ریلیف پیکج موجودہ پٹرولیم قیمتوں کے تناظر میں براہ راست صارفین سے متعلق اہم فیصلہ ہے۔ یہ منظوری عمومی طور پر تمام گاڑی مالکان کے لیے پٹرول کی قیمت کم کرنے کے مترادف نہیں، بلکہ مقررہ شرائط پوری کرنے والے مخصوص صارفین کے لیے ہدفی مالی معاونت ہے۔

اسکیم کے عملی آغاز، رجسٹریشن، اہلیت کی تکنیکی تصدیق اور رقوم کی فراہمی کے مکمل انتظامی مراحل متعلقہ وزارتوں کے نفاذی اقدامات سے مزید واضح ہوں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ فیصلہ 75 ارب روپے کی گرانٹ، مقررہ گاڑیوں کے زمروں اور فیول پاس کے ذریعے ہدفی ریلیف کی منظوری ہے۔