اسلام آباد میں پاکستان اور چین نے پاکستان-چین باؤنڈری جوائنٹ کمیشن کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزارتِ خارجہ میں کمیشن کا افتتاحی اجلاس ہوا، جسے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی امور پر مستقل ادارہ جاتی رابطے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

اجلاس کی مشترکہ صدارت چین کی وزارتِ خارجہ کے شعبہ باؤنڈری اینڈ اوشن افیئرز کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل لی یا اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل چین بلال محمود چوہدری نے کی۔ رپورٹ کے مطابق کمیشن سرحدی انتظام، مشترکہ سرحدی سرویز، تجارتی بہاؤ اور عوامی رابطوں سے متعلق تعاون کے لیے ایک باقاعدہ پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

اس نئے فورم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مشترکہ سرحد سے متعلق معاملات کو وقتی یا غیر رسمی رابطوں کے بجائے باقاعدہ ادارہ جاتی مکالمے اور تکنیکی رابطہ کاری کے ذریعے دیکھا جائے۔ متعلقہ حکام سرحدی علاقوں میں سامنے آنے والے عملی مسائل پر رابطہ مضبوط کر سکیں گے، جبکہ باقاعدہ تکنیکی تعاون اور سرویز سے سرحد سے متعلق معلومات کو تازہ رکھنے اور انتظامی معاملات کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان زمینی سرحد دوطرفہ تجارت، آمدورفت اور علاقائی رابطوں کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔ اسی تناظر میں کمیشن کی فعالیت انتظامی اور تکنیکی سطح پر رابطے کو ایک مستقل ڈھانچہ دیتی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی نئے سرحدی معاہدے، سرحد کی تبدیلی یا کسی تنازع کے فیصلے کا ذکر نہیں کیا گیا؛ پیش رفت کا تعلق تعاون کے ادارہ جاتی طریقہ کار کو فعال کرنے سے ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان کی بنیاد پر رپورٹ کیا گیا ہے کہ یہ کمیشن مشترکہ سرحد سے متعلق معاملات پر باقاعدہ رابطے کے ساتھ تجارت کی سہولت کاری اور متعلقہ اداروں کے درمیان مواصلات بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کرے گا۔ آئندہ اس پلیٹ فارم کی عملی اہمیت اس کے اجلاسوں، تکنیکی رابطہ کاری اور طے شدہ امور پر دونوں جانب کے متعلقہ اداروں کی پیش رفت سے واضح ہوگی۔