اسلام آباد: پاکستان نے اپنے خصوصی اقتصادی زون میں بحری مشق سی اسپارک 2026 کے دوران پیش آنے والے واقعے پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق پاکستانی حکام نے کہا کہ بھارتی بحریہ کا ایک جہاز پاکستانی جہاز کے خطرناک حد تک قریب آیا، جسے اسلام آباد نے اشتعال انگیز اور بحری سلامتی کے لیے تشویش ناک طرز عمل قرار دیا۔
پاکستانی موقف کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان کی بحری مشق جاری تھی۔ دفتر خارجہ نے بھارتی سفارتی نمائندے کے سامنے اس معاملے پر اپنے تحفظات رکھے اور اس بات پر زور دیا کہ سمندر میں ذمہ دارانہ طرز عمل اور محفوظ فاصلہ برقرار رکھنا حادثات اور غیر ضروری کشیدگی سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔
خصوصی اقتصادی زون ساحلی ریاست کو سمندری وسائل سے متعلق مخصوص حقوق دیتا ہے، تاہم بین الاقوامی سمندری قانون کے تحت جہاز رانی کے بعض حقوق بھی برقرار رہتے ہیں۔ موجودہ تنازع میں بنیادی پاکستانی اعتراض رپورٹ شدہ طور پر بھارتی بحری جہاز کے پاکستانی جہاز کے انتہائی قریب آنے اور اس سے پیدا ہونے والے حفاظتی خطرے سے متعلق ہے۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی مختلف سیاسی، سلامتی اور سرحدی تنازعات کے باعث کشیدہ رہتے ہیں، اس لیے سمندر میں فوجی یا بحری پلیٹ فارمز کے درمیان قریبی رابطہ اضافی حساسیت رکھتا ہے۔ ایسے واقعات میں دونوں ممالک کے سرکاری بیانات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر واقعے کی نوعیت کا تعین اہم ہوتا ہے۔ اس خبر میں پاکستانی حکومت کے احتجاج اور اس کے بیان کردہ مؤقف کی رپورٹنگ کی گئی ہے؛ بھارتی فریق کا تفصیلی جواب دستیاب ہونے کی صورت میں معاملے کی تصویر مزید واضح ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد نے واقعے کو سفارتی سطح پر اٹھا کر یہ پیغام دیا ہے کہ بحری مشقوں اور معمول کی جہاز رانی کے دوران ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو تصادم یا غلط فہمی کا باعث بن سکتے ہوں۔ خطے میں سمندری تجارت اور بحری راستوں کی اہمیت کے پیش نظر پیشہ ورانہ رابطہ اور بین الاقوامی قواعد کی پابندی دونوں ممالک کے لیے عملی اہمیت رکھتے ہیں۔
